وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں بہتری اسی وقت ممکن ہے جب ملک کی پانچ بڑی شخصیات آپس میں اعتماد سازی کے لیے رابطہ کریں اور مل بیٹھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نچلی سطح کے سیاسی رابطوں سے کوئی بریک تھرو ممکن نہیں ہوگا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جس طرح 2025 میں معاشی حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی، امید ہے کہ 2026 مزید استحکام کا سال ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے۔
26 اور 27 ویں ترامیم پر تنقید کرنیوالے یہ نہیں بتاتےکہ ترامیم غلط کیوں ہیں، اعظم نذیرتارڑ
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے، جنہیں بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں، اگر یہ اکاؤنٹس محض پروپیگنڈا کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تو اسے اداروں کے بجائے سیاسی مخالفین تک محدود رکھا جائے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی 8 فروری کی احتجاجی اپیل کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ پہیہ جام ہوگا اور نہ ہی اس سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل ہوگا بلکہ اس کے مزید نقصانات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پہیہ جام کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت ردعمل آئے گا، اس لیے پی ٹی آئی کو احتجاج کی کال واپس لے لینی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ملک کے پانچ بڑے رہنماؤں کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے۔ ان کے مطابق ان شخصیات میں نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ایک اور اہم شخصیت شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان رہنماؤں کے درمیان سنجیدہ رابطہ نہیں ہوگا، کسی بڑی سیاسی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔