sui northern 1

سال 2025 میں پاکستان کی اہم ترین اور نمایاں خبریں

سال 2025 میں پاکستان کی اہم ترین اور نمایاں خبریں

0
Social Wallet protection 2

گزرا ہوا سال 2025 پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جس میں جغرافیائی سیاست میں بڑی تبدیلیاں، خطے میں کشیدگی اور اندرونی سطح پر مسلسل چیلنجز دیکھنے میں آئے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے لے کر بھارت کے ساتھ تقریباً جنگی صورتحال تک، پاکستان نے متعدد بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی سمت کا درست تعین کیا۔ مذکورہ رپورٹ میں سال 2025 کے تجزیوں اور اہم واقعات کی روشنی میں ان خبروں کا اختتامی جائزہ پیش کیا جارہا ہے جن میں گزشتہ سال پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور داخلی سلامتی کے معاملات نمایاں رہے۔

sui northern 2

پاک امریکہ تعلقات میں بہتری
سال 2025 میں پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں نمایاں واپسی کی، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان امریکہ تعلقات میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کو "ٹرمپ منیر قربت” قرار دیا گیا، جس نے دوطرفہ تعلقات کو سرد مہری سے نکال کر گرمجوشی کی جانب موڑ دیا۔ امریکہ نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جنگ کے دوران کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کے کردار کو سراہا، جس کے بعد پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ معاشی میدان میں نایاب معدنیات اور ریفائننگ کے شعبے میں 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے طے پائے، جبکہ بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی جانب سے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی گئی۔

پاکستان سرمایہ کاری دوست ملک ہے، میڈیا عالمی سطح پر مثبت تشخص اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے ، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

اس کے علاوہ چین کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور جے-35 جنگی طیاروں کا معاہدہ، روس کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، آذربائیجان کے ساتھ 4.6 ارب ڈالر کا جے ایف-17 طیاروں کا معاہدہ اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی نے خطے میں پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط کیا، جو کئی حوالوں سے بھارت پر سبقت کا باعث بنی۔

پاک بھارت جنگ
مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان پر میزائل حملوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان شدید مسلح تصادم ہوا۔ پاکستان نے بھرپور دفاعی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کو خاص طور پر فضائی محاذ پر بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ نے جدید جے-10 سی طیاروں، پی ایل-15 میزائلوں اور ایچ کیو-9 فضائی دفاعی نظام کی مدد سے 7 اور 8 مئی کو ہونے والی جھڑپوں میں بھارت کے متعدد جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں رافیل جیسے جدید طیارے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کی بہتر حکمت عملی کی بدولت بھارتی فورسز کے ڈرونز اور میزائلوں کی بڑی تعداد کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ اس دفاعی کامیابی کے نتیجے میں بھارت گہرائی تک پیش قدمی نہ کر سکا اور چار دن کی کشیدگی کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔ پاکستانی قیادت اور عالمی مبصرین، حتیٰ کہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بھی چین کے فراہم کردہ ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان کی فوجی کامیابی کا ذکر کیا گیا، جسے بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا۔

دہشت گردی اور داخلی سلامتی کا بحران
سال 2025 گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے لیے سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جس میں دہشت گردی کے واقعات میں 3 ہزار 300 سے زائد افراد جان سے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 ہزار 100 دہشت گرد، 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 عام شہری شامل تھے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں، بلوچستان میں شورش اور 10 سے زائد بم دھماکوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ مارچ میں جعفر ایکسپریس کا اغوا اور بلوچ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نمایاں واقعات رہے، جبکہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کابل کے قریب فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

تباہ کن سیلاب اور قدرتی آفات
سال 2025 میں جون سے ستمبر تک آنے والے شدید سیلابوں نے ملک کے پانچ صوبوں کو متاثر کیا، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، زراعت اور صنعت کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ سال کے اختتام تک بھی انفراسٹرکچر کی بحالی کا عمل جاری رہا، جس نے معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا۔

مشکلات کے باوجود معاشی پیش رفت
2025 میں پاکستان کی شرح نمو 2.6 فیصد رہی، جو 2024 کے 2.8 فیصد کے مقابلے میں کم تھی۔ اس کمی کی بڑی وجوہات سیلاب اور سیکیورٹی مسائل رہے۔ تاہم ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگیاں 592 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ بیجوں کے شعبے میں اصلاحات اور معدنیات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری مثبت اشارے سمجھے گئے۔ اسی سال اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کر کے 10.5 فیصد کر دی تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

پی آئی اے کی نجکاری
اپریل 2025 سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نئی ملکیت میں چلی گئی، جس کے بعد برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی عمل میں آئی۔ دسمبر 2025 میں عارف حبیب گروپ کے کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے، جو ہوا بازی کے شعبے میں اصلاحات اور قومی ایئرلائن کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

کھیلوں کی دنیا میں کامیابیاں
سال 2025 کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستان کے لیے یادگار رہا۔ پاکستان نے 1996 کے بعد پہلی مرتبہ آئی سی سی کے ایک بڑے ایونٹ، چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف سیریز 6-0 سے جیتی، جبکہ لاہور قلندرز نے تیسری مرتبہ پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ بابر اعظم کی 32 ویں سنچری بھی سال کی نمایاں کامیابیوں میں شامل رہی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی انڈر-19 اور ایمرجنگ ٹیموں نے دونوں ایشیا کپ جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔گزرا ہوا سال 2025 پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جس میں جغرافیائی سیاست میں بڑی تبدیلیاں، خطے میں کشیدگی اور اندرونی سطح پر مسلسل چیلنجز دیکھنے میں آئے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے لے کر بھارت کے ساتھ تقریباً جنگی صورتحال تک، پاکستان نے متعدد بحرانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی سمت کا درست تعین کیا۔ مذکورہ رپورٹ میں سال 2025 کے تجزیوں اور اہم واقعات کی روشنی میں ان خبروں کا اختتامی جائزہ پیش کیا جارہا ہے جن میں گزشتہ سال پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور داخلی سلامتی کے معاملات نمایاں رہے۔

پاک امریکہ تعلقات میں بہتری
سال 2025 میں پاکستان نے عالمی سفارت کاری میں نمایاں واپسی کی، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان امریکہ تعلقات میں غیر معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کو "ٹرمپ منیر قربت” قرار دیا گیا، جس نے دوطرفہ تعلقات کو سرد مہری سے نکال کر گرمجوشی کی جانب موڑ دیا۔ امریکہ نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی جنگ کے دوران کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کے کردار کو سراہا، جس کے بعد پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ معاشی میدان میں نایاب معدنیات اور ریفائننگ کے شعبے میں 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے طے پائے، جبکہ بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے امریکی ایکسِم بینک کی جانب سے 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی گئی۔

اس کے علاوہ چین کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور جے-35 جنگی طیاروں کا معاہدہ، روس کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون، آذربائیجان کے ساتھ 4.6 ارب ڈالر کا جے ایف-17 طیاروں کا معاہدہ اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی نے خطے میں پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط کیا، جو کئی حوالوں سے بھارت پر سبقت کا باعث بنی۔

پاک بھارت جنگ
مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان پر میزائل حملوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان شدید مسلح تصادم ہوا۔ پاکستان نے بھرپور دفاعی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کو خاص طور پر فضائی محاذ پر بھاری نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ نے جدید جے-10 سی طیاروں، پی ایل-15 میزائلوں اور ایچ کیو-9 فضائی دفاعی نظام کی مدد سے 7 اور 8 مئی کو ہونے والی جھڑپوں میں بھارت کے متعدد جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں رافیل جیسے جدید طیارے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کی بہتر حکمت عملی کی بدولت بھارتی فورسز کے ڈرونز اور میزائلوں کی بڑی تعداد کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ اس دفاعی کامیابی کے نتیجے میں بھارت گہرائی تک پیش قدمی نہ کر سکا اور چار دن کی کشیدگی کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔ پاکستانی قیادت اور عالمی مبصرین، حتیٰ کہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں بھی چین کے فراہم کردہ ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان کی فوجی کامیابی کا ذکر کیا گیا، جسے بھارت کی جارحانہ حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا۔

دہشت گردی اور داخلی سلامتی کا بحران
سال 2025 گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے لیے سب سے خونریز سال ثابت ہوا، جس میں دہشت گردی کے واقعات میں 3 ہزار 300 سے زائد افراد جان سے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 ہزار 100 دہشت گرد، 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 عام شہری شامل تھے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں، بلوچستان میں شورش اور 10 سے زائد بم دھماکوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ مارچ میں جعفر ایکسپریس کا اغوا اور بلوچ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نمایاں واقعات رہے، جبکہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں کابل کے قریب فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں۔

تباہ کن سیلاب اور قدرتی آفات
سال 2025 میں جون سے ستمبر تک آنے والے شدید سیلابوں نے ملک کے پانچ صوبوں کو متاثر کیا، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، زراعت اور صنعت کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ سال کے اختتام تک بھی انفراسٹرکچر کی بحالی کا عمل جاری رہا، جس نے معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا۔

مشکلات کے باوجود معاشی پیش رفت
2025 میں پاکستان کی شرح نمو 2.6 فیصد رہی، جو 2024 کے 2.8 فیصد کے مقابلے میں کم تھی۔ اس کمی کی بڑی وجوہات سیلاب اور سیکیورٹی مسائل رہے۔ تاہم ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں ریٹیل ڈیجیٹل ادائیگیاں 592 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ بیجوں کے شعبے میں اصلاحات اور معدنیات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری مثبت اشارے سمجھے گئے۔ اسی سال اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کر کے 10.5 فیصد کر دی تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

پی آئی اے کی نجکاری
اپریل 2025 سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نئی ملکیت میں چلی گئی، جس کے بعد برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی عمل میں آئی۔ دسمبر 2025 میں عارف حبیب گروپ کے کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے، جو ہوا بازی کے شعبے میں اصلاحات اور قومی ایئرلائن کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

کھیلوں کی دنیا میں کامیابیاں
سال 2025 کھیلوں کے میدان میں بھی پاکستان کے لیے یادگار رہا۔ پاکستان نے 1996 کے بعد پہلی مرتبہ آئی سی سی کے ایک بڑے ایونٹ، چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف سیریز 6-0 سے جیتی، جبکہ لاہور قلندرز نے تیسری مرتبہ پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ بابر اعظم کی 32 ویں سنچری بھی سال کی نمایاں کامیابیوں میں شامل رہی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی انڈر-19 اور ایمرجنگ ٹیموں نے دونوں ایشیا کپ جیت کر ملک کا نام روشن کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.