وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آئین میں انحراف (defection) کے حوالے سے واضح موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا انحراف کے زمرے میں آتا ہے، تاہم ایسا ووٹ ضمیر کے مطابق شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے معاملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ پارٹی لائن کے برعکس ووٹ دینے کی قیمت ادا کرنی ہوگی، مگر انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا۔
چیف جسٹس نے 27 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ اجلاس طلب کرلیا
انہوں نے وضاحت کی کہ جب تک کسی رکن کا تحریری استعفیٰ الیکشن کمیشن کو موصول نہیں ہوتا اور کمیشن اسے ڈی نوٹیفائی نہیں کرتا، تب تک رکن کی رکنیت برقرار رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض اعلان یا بیان سے رکنیت ختم نہیں ہوتی، اور پروسیجر مکمل ہونے تک سیف اللہ ابڑو ایوان کے رکن ہیں اور انہیں تمام پارلیمانی حقوق حاصل ہیں۔