اسلام آباد میں ہیلتھ سروس اکیڈمی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان کے خلاف ایک نوجوان میڈیکل افسر خاتون کی جانب سے سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر اسلام آباد پولیس نے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ متاثرہ خاتون کا تعلق خیبر پختونخواہ کے ضلع بٹگرام سے ہے، اور تین برس سے ڈاکٹر شہزاد کے ماتحت مختلف عہدوں پر کام کر رہی تھیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شہزاد نے ان سے محبت اور شادی کے وعدے کیے، اور طویل عرصے تک انہیں جھوٹے دلاسوں میں رکھا، یہاں تک کہ ان کے دیگر رشتوں میں بھی رکاوٹیں ڈالیں۔ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی شادی شدہ ہیں، اس کے باوجود وہ خاتون سے خفیہ شادی پر زور دیتے رہے، جس سے انکار پر ان کے رویے میں سختی آ گئی۔

خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سترہ جولائی کو، جب انہوں نے کھلے عام شادی کا مطالبہ کیا تو ڈاکٹر شہزاد نے انہیں اپنی گاڑی میں تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ زخمی ہوئیں اور پمز اسپتال سے حاصل کردہ میڈیکل رپورٹ بھی پولیس کو جمع کروا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ یونیورسٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہی تھیں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد متاثرہ خاتون کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان نے اس معاملے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ خاتون کا تعلق متوسط گھرانے سے ہے، اس لیے انہوں نے اس کی بھرپور مدد کی اور تین سال میں اس کے اکاؤنٹ میں چار کروڑ روپے منتقل کیے، جن میں ایک کروڑ نقد شامل تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم خاتون نے جائیداد خریدنے کے بہانے حاصل کی، مگر اب وہ جائیداد دینے سے انکاری ہو کر انہیں بلیک میل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ خاتون کے گھر بھی جا چکے ہیں اور اس کے والدین سے بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
صحافی رؤف کلاسرا کے ساتھ گفتگو میں جب ڈاکٹر شہزاد سے سوال کیا گیا کہ وہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کے سربراہ ہونے کے باوجود اپنی ماتحت خاتون افسر کو اتنی بڑی رقم کیسے اور کیوں دیتے رہے؟ تو انہوں نے مبہم جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گاڑی بیچ کر اور دیگر ذرائع سے یہ رقم حاصل کی تھی۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ان کے رویے سے یونیورسٹی کی ساکھ متاثر نہیں ہو گی، جہاں درجنوں طالبات اور فی میل اسٹاف کام کرتے ہیں؟ لیکن اس سوال پر بھی وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
اس تمام واقعے نے تعلیم، اعتماد اور طاقت کے توازن پر ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب والدین اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے اداروں میں بھیجنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔ معاملے کی مکمل تحقیقات اور شفاف عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
Comments are closed.