Gas Leakage Web ad 1

پی ایچ ایف کانگریس اجلاس پر تنازع، سیدہ شہلا رضا کے تحفظات، وزیراعظم سے نوٹس کی اپیل

0

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین وانی جوکہ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکریٹری کی حیثیت سے بھی بیوروکریسی کا حصہ ہیں، ان پر ایک ماہ کے اندر ہی ہاکی فیڈریشن کے سابقہ بدعنوان ٹولے کا رنگ چڑھ گیا ہے

Gas Leakage Web ad 2

پی ایچ ایف کو پہلی بار انتظامی اور ہاکی کے معاملات میں تقسیم کرنے والے محی الدین وانی اپنے مشیروں کے غلط مشوروں پر چل پڑے ہیں، ممبر قومی اسمبلی و رکن قائمہ کمیٹی برائے وزارت بین الصوبائی رابطہ سیدہ شہلا رضا نے ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر کی جانب سے 27 مارچ کو پی ایچ ایف کے متنازعہ کانگریس کا اجلاس طلب کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے انہوں نے وزیراعظم کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے، سیدہ شہلا رضا نے وزیراعظم سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے ان سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے، خط کے مطابق ممبر قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے نوٹیفیکشن کے مطابق محی الدین وانی پی ایچ ایف کے ایڈہاک صدر ہیں اور ان کی زمہ داری فیڈریشن کے سابق صدر طارق میسوری بگٹی کی طرح فیڈریشن کے صاف اور شفاف انتخابات کرواکر زمہ داریاں منتخب صدر اور سیکریٹری کو سونپنا ہے جبکہ وہ روز مرہ کے معاملات چلانے کے لئے ضروری اقدامات کرسکتے ہیں تاہم 27 مارچ کو پی ایچ ایف کی متنازعہ کانگریس کا اجلاس بلانا وزیراعظم پاکستان کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ سے روگردانی ہے اور شفاف الیکشن کے عمل میں رکاوٹ کا باعث ہوگا، وزارت بین الصوبائی رابطہ کی قائمہ کمیٹی کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ہاکی فیڈریشن کے سابقہ صدر طارق بگٹی کے دور میں انتخابات کا عمل شروع کیا تھا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا، اول تو وہ نوٹیفیکشن تاحال قانونی شکل میں بحال ہے جبکہ پی ایچ ایف کے 2022 کے انتخابات کو وزارت بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تسلیم ہی نہیں کیا تھا، 2022 سے تاحال ہاکی فیڈریشن کے انتخابات نہیں ہوئے جبکہ فیڈریشن 2018 سے 2022 تک کی مدت مکمل کر چکی تھی، ایسی صورت میں ایڈہاک صدر محی الدین وانی کونسی کانگریس کا اجلاس طلب کررہے ہیں جبکہ ایک دلچسپ اور قانونی نقطہ یہ بھی ہے کہ وانی صاحب جس متنازعہ کانگریس کا اجلاس بلا رہے ہیں اس کے 50 فیصد ارکان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری جنرل حیدر حسین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ناکامی کے باعث پی ایچ ایف کے آئین کے مطابق ڈی بار (کانگریس کی رکنیت ختم ) ہوچکے ہیں، جس کے بعد ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر طارق بگٹی اور غیر قانونی سیکریٹری جنرل رانا مجاہد نے غیر قانونی طریقے سے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے من پسند افراد کو کانگریس ممبر بنادیا تھا، خط میں کہا گیا ہے کہ ہاکی فیڈریشن کے غیر قانونی کانگریس اجلاس کا مقصد سابقہ بدعنوان ٹولے کے ان بدعنوانیوں کو تحفظ دینا ہے جن پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے 113 پیراز ہیں، جبکہ متنازعہ کانگریس اجلاس کا دوسرا بڑا مقصد سابقہ دور میں ملک بھر میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بنائی جانے والی متوازی ایسوسی ایشن کو تحفظ دینا بھی ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وانی صاحب ایف آئی اے کے ذریعے بدعنوانیوں کی تحقیات کراتے اور ہاکی فیڈریشن کا پیسہ لوٹنے والے ٹولے کو قانون کے کٹہرے میں لاتے وہ الٹا ان کو امین و صادق ثابت کرنا چاہتے ہیں، سیدہ شہلا رضا کا کہنا ہے کہ کسی صورت غیر قانونی کانگریس کو تسلیم نہیں کرینگے انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وزیراعظم پیٹرن ان چیف کی حیثیت سے فوری مداخلت کریں اور انکو تفویض کی گئی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کی ہدایات جاری کریں۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ایڈہاک صدر محی الدین وانی کی تقرری کے وقت پی ایس بی کے نوٹیفیکشن کے مطابق انتخابی عمل جاری تھا جسے آج تک ختم نہیں کیا گیا، پی ایچ ایف کے قانون کے مطابق صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے انتخابی عمل کے شروع ہوتے ہی کانگریس ختم ہو جاتی ہے، قانونی ماہرین نے محی الدین وانی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جس کانگریس کا اجلاس بلا رہے ہیں اس کے 50 فیصد ارکان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد سجاد کھوکھر کے دور میں ڈی بار ہوگئے تھے، اس طرح قانونی طورپر واضح ہے کہ اس وقت ہاکی فیڈریشن کے کانگریس کا کوئی وجود نہیں ہے جبکہ نئی کانگریس صرف اور صرف انتخابات کے ذریعے ہی وجود میں آسکتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.