Gas Leakage Web ad 1

تیل، طاقت اور تصادم میں چھپی سچائی

عابد رشید

0

ایک سچ آپ کا ہے…. ایک سچ میرا ہے…. ایک سچ وہ ہے جو ” اصل سچ “ ہے….یہی اصل سچ حقائق پر مبنی ہوتا ہے جو حقائق کے دریا میں ڈوبتا نہیں بلکہ موج بن کر اُبھرتا ہے۔ اسے وقتی بیانیوں، طاقتور میڈیا اور سیاسی خطابات کے غبار میں عارضی طور پر چھپایا توجا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔
بین الاقوامی سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس پر قومیں مہروں کے طور پر سجائی جاتی ہیں لیکن چال ہمیشہ طاقتور ہی چلتا ہے …. ہر چال کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے اور ہر کہانی کے پیچھے مفاد کروٹیں بدل رہا ہوتا ہے….یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ توانائی کے ذخائر پر قبضہ عالمی طاقتوں کی دیرینہ حکمت عملی رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ریگستان صرف ریت کے سمندر ہی نہیں بلکہ سیاہ سونے کے خزانے بھی ہیں جنہیں عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت
حاصل ہے۔ انہی صفحات پر بیان کیا جا چکا ہے کہ ماضی میں ایران عراق اور کویت عراق جنگ اسی امریکی سازش کا حصہ تھی جس کے نتیجہ میں ناصرف امریکہ کی کویت بلکہ سعودی تیل تک بھی رسائی ہو گئی کچھ عرصہ بعد عراقی صدر کو بھی انجام تک پہنچا کر اس کھیل کا ایک مرحلہ مکمل کر لیا گیا۔
توانائی پر قبضہ کی اسی حکمت عملی کے تحت نئے مرحلہ کی شروعات وینزویلا سے کی گئی۔ ایران پر حملہ اسی کا تسلسل ہے۔
نومبر2025 میں ٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد امریکی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی” قومی سلامتی حکمت عملی“ سامنے آئی۔ یہ اخبارات میں شائع بھی ہوئی اگر پاکستان میں اخبار بینی کا شوق اور ذوق رکھنے والے آج بھی اگر اس حکمت عملی کا بغور مطالعہ کر لیں یا اس کے بنیادی نکتہ” امریکہ اپنے دشمنوں سے توانائی کے ذخائر چھین لے گا“ کو ہی سمجھ لیں تو انہیں پتہ لگ جائے گا کہ یہ ایک چھپا ہوا "اعلانِ جنگ” تھا اور پھرامریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے پس پردہ اصل مقصد بھی راز نہیں رہے گا۔ایران کے خلاف حالیہ اقدامات صرف نظریاتی یا سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی اور معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی کسی ملک کو نشانہ بنایا گیا اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑا مفاد ضرور تھااور اکثر وہ توانائی سے جڑا تھا۔
یارانِ نقطہ داں کو تو اسی وقت چونک جانا چاہئے تھاجب صدر ٹرمپ نے چن چن کر اپنی کابینہ میں ایسے افراد کو جگہ دی تھی جن کا ماضی اور حال مسلمان دشمنی ہے اور یہ لوگ بدترین سطح کے مذہبی انتہا پسند مشہورہیں۔ اس کی ایک مثال توتلسی گپارڈ ہیں جو بھارت کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس سے گہری جذباتی اور قلبی وابستگی رکھتی ہیں اور اپنے انہی انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے” آر ایس ایس کی رانی“ کہلاتی ہیں۔ انہیں یہ خطاب امریکی صحافی پیٹر فیڈ ریچ نے دے رکھا ہے۔ تلسی گپاڈ امریکہ کی نیشنل انٹیلی جینس کی ڈائریکٹر ہیں ۔انہیں یہ عہدہ 12فروری 2025 میں دیا گیا۔ٹرمپ اگرچہ مختلف مواقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کامذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے اصل میں درپردہ ان کی تمام تر ہمدردی اور توجہ کا طالب بھارت اور اسکی انتہاپسند مذہبی حکومت ہے۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد دنیایک قطبی نظام میں داخل ہوئی تو ایک طاقت کو فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی…. امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کی رعونیت حد سے بڑھی تو طاقت پر گھمنڈ،آنکھوں پر غرور اورعقلوں پر پردے پڑتے چلے گئے۔ایران کے خلاف کارروائی کیلئے اسی پرانے اور فرسودہ جواز کو پیش کیا گیا جسے اس سے قبل عراق اور دوسرے مسلمان ملکوں میں استعمال کیا جا چکا تھا لیکن اس بار اسے نا صرف دنیا بلکہ امریکہ کے اندر بھی پزیرائی نہ مل سکی۔ نیٹو نے تو امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہی لیکن سری لنکا نے بھی اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دی۔
رہا سوال اقوام متحدہ کا تو اقوام عالم نے بڑی ہی تسلی اور اطمنان کے ساتھ اس کے منشور اور اجتماعی سلامتی کے زریں اصولوں کی دھجیاں پہلے بھی اڑتے دیکھی…. سہی ہیں…. اور اب بھی پرامن بقائے باہمی کی موت کا مشاہدہ خاموشی سے کر رہی ہیں کیونکہ عالمی امور میں قانون اور اخلاقیات ہمیشہ کمزور دلیل ہوتے ہیں
جہاں تک مشرق وسطی کے عرب ممالک کا تعلق ہے تو جب کسی ریاست کے پاس اپنی حفاظت کیلئے ذرائع نہیں ہوتے تو وہ دوسروں کے مداد کی زد میں رہتی ہے …. ایسی ریاستوں کیلئے طاقت ہی سکہ رائج الوقت ہوتا ہے۔ اگر طاقتور ریاستوں اور ملکوں کے درمیان توازن نہ رہے تو اخلاقی قدریں ہوا میں اڑائی جا سکتی ہیں…. کمزور ملکوں کے خلاف جنگ اور مداخلت کیلئے کوئی بھی بہانہ تراشہ اور کوئی بھی جواز پیدا کیا جا سکتا ہے…. حکومتوں کو گرا کرسماجی ترقی اور معاشی اصلاحات کے نام پر نئے بت تراشے جا سکتے ہیں بلکہ لوگوں کو ان بتوں کی پوجا پر بھی لگایا جا سکتا ہے…. تاریخ ناپسندیدہ حکومتوں کو ختم کرنے اور اپنی پسند کی حکومتیں لانے اورانہیں سہارا دینے کے واقعات اور ان کی ناکامی کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔
اگر کسی ملک میں قومی شعور بیدار ہو جائے تو اندرونی اختلافات پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور پوری قوم ایک مقصد کے لئے متحد ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد بیرونی جارحیت کے خلاف سب سے بڑی ڈھال بنتا ہے۔ طاقت کا زعم اُسی وقت ٹوٹتا ہے جب جارح کو مزاحمت کا سامنا کرناپڑتا ہے….جن قوموں میں غیرت و حمیت باقی
ہوتی ہے وہاں رجیم چینج جیسے کھیل عموماََ مہنگے پڑتے ہیں…. طاقت اور غرور کی خوش فہمی جلد غلط فہمی بن جاتی ہے…. حریف کی مزاحمت کے آگے جارح کی طاقت کا زعم ہر لمحے بکھرتا رہتا ہے….اگر قومی جذبہ بیدار ہو تو ملک کی حکومت مخالف قوتیں اپنے اختلافات کو طاق میں رکھ کر اپنی ریاست کی خود مختاری کے دفاع میں لگ جاتی ہیں ۔
موجودہ ربع صدی کے واقعات کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ طاقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی۔ جو آج غالب ہے،کل مغلوب بھی ہو سکتا ہے۔ رجیم چینج کے نام پر کی جانے والی مداخلتیں اکثر وقتی کامیابی تو حاصل کر لیتی ہیں مگر طویل المدت نتائج اکثر تباہ کن ہوتے ہیں۔ افغانستان، عراق اور دیگر ممالک اس کی واضح مثال ہیں جہاں استحکام کی بجائے عدم استحکام نے جنم لیا۔
آج کی دنیا میں جہاں اطلاعات کا سیلاب ہے وہاں سچ کو پہچاننا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ اگر ہم حال کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو بہت سے پردے خود بخود ہٹنے لگیں گے اور ہمیں دکھائے گئے اور بیان کئے گئے سچ میں فرق کا ادراک ہو جائے گا ۔
ماضی میں بھی جنگیں ہوئیں اور ختم ہوگئیں یہ جنگ بھی ایک دن ختم ہو جائے گی مگر اس دوران بہت سے غرور خاک میں مل چکے ہونگے اور طاقت کا نشہ بھی ہرن ہو چکا ہوگا….اور جب یہ گرد بیٹھے گی تو تاریخ اپنے خاموش مگر بے رحم لہجے میں فیصلے سنائے گی۔ وہ بتائے گی کہ کس نے سچ کو مسخ کیا، کس نے اسے چھپایا اور کس نے اسے پہچان کر اس کا ساتھ دیا۔ قوموں کی زندگی میں ایسے موڑ بار بار نہیں آتے مگر جب آتے ہیں تو ان کی سمت متعین کر دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب بیانیے ٹوٹتے ہیں اور حقائق اپنی اصل صورت میں سامنے آتے ہیں۔
عالمی طاقتوں کے کھیل میں وقتی فائدے سمیٹنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ طاقت کا توازن جامد نہیں رہتا۔ جو ہاتھ آج فیصلے لکھ رہا ہے،کل وہی ہاتھ تاریخ کے کٹہرے میں بھی کھڑا ہوگا۔ یہی فطرت کا اصول ہے اور یہی تاریخ کا سبق بھی….!
اس سارے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم محض تماشائی ہیں یا حقیقت کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی فکری اور قومی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ کیونکہ اصل سچ صرف جان لینے سے نہیں بلکہ اسے قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے اپنی معنویت پیدا کرتا ہے۔
اگر قومیں سچ کو پہچاننے لگیں تو نہ صرف بیرونی سازشیں کمزور پڑ جاتی ہیں بلکہ اندرونی استحکام بھی مضبوط ہوتا ہے۔ یہی شعور مستقبل کی ضمانت بنتا ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.