عیدالفطر قریب آتے ہی مافیا ایک بار پھر گرم ہو گیا اور کرنسی نوٹوں کی گڈیاں کھلے عام بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں۔
عیدالفطر خوشیوں کا ایسا تہوار ہے، جس سے کئی خوبصورت روایات جڑی ہوئی ہیں۔ ان ہی روایات میں سے ایک لوگوں کا اپنے پیاروں کو عیدی دینا ہوتا ہے، جو ہمارے ہاں عموماً نقدی وہ بھی نئے کڑک کرنسی نوٹوں کی صورت میں ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان تو ہر سال مختلف مالیت کےکرنسی نوٹوں کی گڈیاں ان کی اصل مالیت کے مطابق ہی جاری کرتا ہے۔
تاہم اوپن مارکیٹ میں یا کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والے افراد ہمیشہ ان کرنسی نوٹوں کی گڈیوں کو بلیک میں کئی گنا زائد قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔
اس بار بھی عید قریب آتے ہی ہر مالیت کے نوٹوں کی گڈی اصل مالیت سے 60 فیصد زائد قیمت تک فروخت کی جا رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 10 روپے مالیت کے نوٹوں کی گڈی جو ایک ہزار روپے کی ہوتی ہے، اس کی قیمت 1500 سے 1600 روپے تک وصول کی جا رہی ہے۔
اسی طرح 20 روپے والے نوٹوں کی گڈی 2000 روپے کے بجائے 2500 یا اس سے زائد میں فروخت کی جا رہی ہے۔
50 روپے مالیت کے نوٹوں کی گڈی اصل قیمت 5000 کے بجائے 1300 سے 1400 روپے زائد قیمت پر بیچی جا رہی ہے۔ 100 روپے مالیت کے نوٹوں کی گڈی بھی اتنی ہی زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود کہ نئے نوٹ با آسانی سرکاری بینکنگ چینلز کے ذریعے دستیاب ہوں گے، شہر کے بڑے بازاروں میں دکانداروں نے اسٹالز لگا دیے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بینکوں اور اے ٹی ایمز کے ذریعے نئی کرنسی حاصل کریں۔
اس حوالے سے مرکزی بینک نے ایک ہیلپ لائن (info@sbp.org.pk اور +92-21-111-727-273) بھی فراہم کی ہے اور شہریوں کو اپ ڈیٹس اور مدد کے لیے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جانے کی ہدایت کی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طریقے سے کرنسی کی خرید و فروخت نہ صرف صارفین کا استحصال کرتی ہے بلکہ بینکنگ قوانین کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے- مجرموں کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔