ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تین شرائط رکھ دی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں، جنگ میں ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے، اور آئندہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں عالمی طاقتیں اس بات کی ضمانت دیں کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔
مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے روسی صدر اور پاکستانی وزیراعظم سے بات چیت کے دوران خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو علاقائی ممالک کی بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک خود کو اس بحران سے نکال سکتا ہے اور وہ دشمن پر بھروسہ نہیں کرتے۔ پاسداران نے کہا کہ فتح حاصل کرنے تک نہیں رکیں گے اور دشمنوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ایران کے حملے جاری رہیں گے۔
ادھر امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنا انتہائی خطرناک ہے۔