ایران نے امریکا اور اسرائیل کو "مکمل سزا” دینے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی مشترکہ فوجی کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایران اب جوابی حملوں کی پالیسی ختم کرکے امریکا اور اسرائیل کو سزا دینے کے لیے مسلسل حملوں کی پالیسی اختیار کرنے جا رہا ہے ۔
ایرانی میزائلوں سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی کے مناظر سامنے آگئے
ابراہیم ذوالفقاری نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طریقوں سے کم نہیں کیا جا سکتا اور آبنائے ہرمز سے ایک قطرہ بھی تیل باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کی توقع رکھی جائے اور اسرائیل، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے جہاز نشانہ بنائے جائیں گے ۔
ایرانی فوج نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایران سے اجازت نامہ لینا ہو گا۔ ایرانی نیول چیف نے خبردار کیا کہ جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کے "کھوکھلے بیانات” کو سچ نہ سمجھا جائے اور بتایا کہ دو جہازوں نے ایسے دعوؤں کو سچ مانا لیکن انہیں پکڑ لیا گیا ۔
خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران اب امریکی اور اسرائیلی معاشی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنائے گا ۔ انہوں نے خطے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ بینکوں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں ۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے اب تک 1300 سے زائد ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں ۔