امریکی نیوز سائٹ "ایکسیوس” نے ایران جنگ کے ممکنہ انجام کے حوالے سے پانچ منظرنامے پیش کیے ہیں۔
پہلا منظرنامہ: امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
دوسرا منظرنامہ: امریکا سفارتی دباؤ یا خفیہ کارروائیوں کے ذریعے ایرانی قیادت میں تبدیلی لانے کی کوشش کر سکتا ہے اور موجودہ نظام کے اندر سے کسی نئی قیادت کے ساتھ کام شروع کر سکتا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک کیساتھ تنازع میں پڑنے کا کوئی ارادہ نہیں: ایرانی صدر کی شہباز شریف سے گفتگو
تیسرا منظرنامہ: جنگ، معاشی بحران اور سیاسی دباؤ کے باعث ایران میں عوامی احتجاج شروع ہو سکتا ہے جو نظام حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔
چوتھا منظرنامہ: امریکا اور اسرائیل زمینی کارروائی کر کے ایرانی جوہری تنصیبات اور صلاحیتوں کو تباہ یا ان پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
پانچواں منظرنامہ: امریکی صدر ٹرمپ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کافی حد تک تباہ یا کمزور قرار دے کر فتح کا اعلان کر سکتے ہیں اور اپنی فوجیں واپس بلا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں پر شدید بمباری کی تھی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔