جگر پر چربی چڑھنے کا مرض دنیا بھر میں بہت عام ہے اور تقریبا 30 فیصد افراد اس سے متاثر ہیں۔ عام اصطلاح میں اسے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD) کہا جاتا ہے۔ یہ مرض جگر میں غیر معمولی مقدار میں چربی جمع ہونے کا باعث بنتا ہے، جس سے جگر کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور شدید صورتوں میں جگر کی ناکامی، ذیابیطس ٹائپ 2، اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس مرض کے لیے اب تک کوئی مؤثر علاج موجود نہیں تھا، صرف طرز زندگی میں تبدیلی، خوراک کی اصلاح، اور ورزش کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جاتا تھا۔
ایران نے اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یو پیپلز آف پاکستان لکھ دیا
جنوبی کوریا کی Ulsan یونیورسٹی، Pusan نیشنل یونیورسٹی اور Ulsan یونیورسٹی ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق میں miRNA-93 نامی مائیکرو آر این اے کو جگر پر چربی کے عارضے کے پھیلاؤ سے منسلک پایا گیا۔ miRNA-93 جگر میں چربی جمع ہونے، ورم پیدا کرنے، اور بیماری کے پیچیدہ اثرات کو بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
چوہوں میں miRNA-93 کے بننے کے عمل کو جینیاتی تدوین کے ذریعے روکا گیا، جس سے جگر میں چربی جمع ہونے کی رفتار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ انسولین کی حساسیت بہتر ہوئی اور جگر کے افعال معمول پر آئے، جس سے بیماری کے سنگین اثرات کم ہوئے۔ محققین نے FDA کی منظور شدہ 150 ادویات کی جانچ کی کہ کون سی miRNA-93 کی سطح کو کم کر سکتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وٹامن بی 3 سب سے مؤثر ثابت ہوا۔ وٹامن بی 3 کے استعمال سے miRNA-93 کی سطح میں ڈرامائی کمی آئی، جگر میں چربی گھلنے کا عمل معمول پر آگیا، اور جگر کے افعال بہتر ہوئے۔
یہ دریافت پہلی بار جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کو miRNA-93 سے منسلک کرتی ہے۔ وٹامن بی 3 کے ذریعے ایک مؤثر، محفوظ، اور پہلے سے منظور شدہ علاج کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس علاج سے جگر کی چربی کو کم کرنا ممکن ہوگا، انسولین کی حساسیت بہتر ہوگی، اور میٹابولک امراض کا خطرہ کم ہو گا۔ تحقیق میں یہ بھی دکھایا گیا کہ miRNA-93 کو ہدف بنا کر دیگر ممکنہ ادویات یا تھراپی بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔
یہ تحقیق ایک بڑے انقلاب کی بنیاد رکھتی ہے، کیونکہ جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کا علاج اب تک محدود اور غیر مؤثر تھا۔ اب miRNA-93 کو ہدف بنا کر اور وٹامن بی 3 کے ذریعے اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے، جو دنیا بھر کے NAFLD کے مریضوں کے لیے ایک مثبت اور قابل عمل حل پیش کرتی ہے۔