ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق چاہے کوئی شخص سادہ نلکے کا پانی پیتا ہو یا اسپارکلنگ پانی کو ترجیح دیتا ہو، اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، کیونکہ اکثر لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنے ہائیڈریٹ نہیں جتنے وہ سمجھتے ہیں۔
ہیٹ ویو سے حاملہ خواتین کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے،وزارت موسمیاتی تبدیلی
ڈی ہائیڈریشن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم پسینے، پیشاب اور دیگر بنیادی جسمانی عمل جیسے سانس لینے کے ذریعے جتنا پانی کھو دیتا ہے، اس کے مقابلے میں انسان کم مقدار میں پانی یا دیگر مائعات استعمال کرتا ہے۔
چونکہ انسانی جسم تقریباً 70 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے پانی کی کمی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے اور اگر طویل عرصے تک اس مسئلے کو نظر انداز کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
برطانیہ میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ کچھ آن لائن ذرائع کے مطابق برطانیہ میں نصف سے زیادہ افراد روزانہ اپنی ضرورت سے کم مقدار میں پانی پیتے ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ صحت این ایچ ایس نے تجویز دی ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی لیٹر پانی پینے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ اس مقدار میں اسکواش، پھلوں کے جوس، دودھ، چائے اور کافی میں شامل پانی بھی شمار کیا جاتا ہے۔
برطانوی ماہر غذائیت جینا ہوپ کے مطابق بعض پھل اور سبزیاں بھی روزانہ پانی کی مقدار کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ان کے مطابق کھیرا ایسی سبزی ہے جس میں پانی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے، جبکہ ٹماٹر اور اجوائن میں بھی پانی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
اسی طرح پھلوں میں خربوزہ، تربوز اور انناس میں بھی پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، تاہم ان میں مٹھاس بھی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ان کا استعمال اعتدال میں رہ کر کرنا چاہیے۔
اگرچہ جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کے کئی طریقے موجود ہیں، اس کے باوجود لاکھوں افراد روزانہ مطلوبہ مقدار میں پانی نہیں پی پاتے۔ اس کے نتیجے میں وہ مختلف بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں اور انہیں قبض سے لے کر کومہ تک کی کیفیت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
پانی کی کمی کے حوالے سے ایک اور تشویش یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ جسم ذہنی دباؤ یا اسٹریس پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ پانی کے استعمال اور اسٹریس ہارمون کے درمیان تعلق پر کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسم میں پانی کی کمی دل کی بیماریوں، گردوں کے مسائل، موڈ کی خرابی اور ذیابیطس کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔