نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ **رقص (ڈانسنگ) اور دیگر ایروبک ورزشیں** ڈپریشن اور بے چینی (اینزائٹی) کے علاج میں **اینٹی ڈپریسنٹ ادویات جتنا مؤثر** ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرہ خان کا بالی وڈ گیت پر ’مست مگن‘ رقص
اہم نکات:
* جاگنگ، تیراکی، ڈانس اور ہلکی پھلکی ورزش جیسے چہل قدمی سے **ڈپریشن اور اینزائٹی کی علامات میں واضح بہتری** آتی ہے۔
* تحقیق کو **برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن** میں شائع کیا گیا اور اسے کوئنز لینڈ کی **جیمز کُک یونیورسٹی** کے سائنس دانوں نے انجام دیا۔
* محققین کا کہنا ہے کہ ورزش کو **روایتی علاج کی طرح فرسٹ لائن انٹروینشن کے طور پر تجویز کیا جانا چاہیے**، خاص طور پر نوجوان بالغ افراد اور زچگی کے بعد خواتین میں۔
* برطانیہ میں ہر چھ میں سے ایک فرد ڈپریشن کا شکار ہے، اور خواتین میں اس کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں تقریباً **دو گنا زیادہ** ہے۔
مختصر یہ کہ باقاعدہ ورزش اور ڈانس نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی بے حد فائدہ مند ہے اور یہ ڈپریشن کے علاج میں ادویات کے متبادل یا معاون کے طور پر کام کر سکتی ہے۔