اگر آپ دن بھر کی مصروفیات کے باعث ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے مگر جسمانی طور پر فٹ رہنا چاہتے ہیں تو ایک آسان طریقہ اپنا سکتے ہیں: دن میں 3 یا 4 بار سیڑھیوں پر تیزی سے چڑھنا اور اترنا۔
یہ بات مختلف تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی ہے کہ مختصر مدت کی شدید جسمانی سرگرمیاں بھی آپ کو فٹ رکھنے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔
وہ بہترین ورزش جو موٹاپے سے نجات اور ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رکھنے کیلئے انتہائی مؤثر
دسمبر 2022 میں ٹورنٹو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ وقت تک تیز چہل قدمی یا روایتی ورزش کی بجائے آپ اپنے دفتر کو ہی جسمانی طور پر فٹ ہونے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں 2 منٹ تک سخت جسمانی سرگرمیاں، یعنی بہت تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اترنے سے بھی دل اور نظام تنفس کی فٹنس کو بہتر بنانا ممکن ہے۔
اس تحقیق میں 20 سے 30 سال کی عمر کے 12 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا جو اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے تھے۔ ان افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہر 30 منٹ بعد اٹھ کر 2 منٹ تک چہل قدمی کریں یا اپنی کرسی سے بار بار اٹھ کر بیٹھیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس عادت سے جسم امینو ایسڈز کو زیادہ بہتر طریقے سے مسلز کی مرمت یا حجم بڑھانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔
2019 میں صحت مند نوجوانوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں رضاکاروں کو دن میں 3 بار 3 منزلوں تک سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے کی ہدایت کی گئی تھی (صبح، دوپہر کے کھانے کے وقت اور شام)۔ یہ عمل 6 ہفتوں تک جاری رکھا گیا اور اس دوران وہ نوجوان دیگر ورزشوں سے دور رہے۔ 6 ہفتوں بعد ان کی ایروبک فٹنس اور ٹانگوں کی مضبوطی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
2008 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں ہائی بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کے مسائل کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے اثرات اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ روزانہ ورزش سے بھی جسم کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔
مگر ٹورنٹو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ وقت جسمانی سرگرمیوں کے لیے نکالنا ان منفی اثرات کی روک تھام کر سکتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ لگ بھگ تمام جسمانی سرگرمیاں ہی ورزش سمجھی جا سکتی ہیں، اس حوالے سے وہ سرگرمی مثالی ہوتی ہے جس سے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جائے اور اس کا دورانیہ ایک سے 2 منٹ کا ہو۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔