رات کا پچھلا پہر تھا، جب شہر کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں اور گلی کے نکڑ پر لگے پیلے بلب کی روشنی میں سائے طویل ہو رہے تھے۔ اس پراسرار سناٹے میں ایک آٹھ سالہ بچہ اپنی بالکونی میں بیٹھا پنسل سے اپنی پرانی کتاب کے حاشیوں پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔ وہ بار بار بستہ کھولتا، کتاب نکالتا اور پھر ایک لمبی آہ بھر کر اسے واپس رکھ دیتا۔ اس کی خاموش آنکھوں میں ایک ایسا سوال تھا جو شاید وقت کے حاکموں کے پاس بھی نہیں۔ وہ سوال جو معصومیت اور کرب کا مجموعہ تھا: امی کیا میرا اسکول ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے؟
یہ صرف ایک معصوم بچے کا اضطراب نہیں، بلکہ یہ اس پورے عہد کا نوحہ ہے جہاں علم کے چراغ کو پٹرول کی قیمتوں اور ایندھن کے حساب کتاب کی نذر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں 10 مارچ سے 31 مارچ تک تعلیمی اداروں کی بندش کو ایک انتظامی ضرورت قرار دے کر ٹال دیا گیا، اور اب یہ خبریں دم توڑتی امیدوں پر تازیانے کی طرح برس رہی ہیں کہ یہ تعطل 15 اپریل تک دراز کیا جا رہا ہے۔ فیض احمد فیض نے شاید ایسے ہی حالات کے لیے کہا تھا:
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
حیرت کا مقام تو یہ ہے کہ جس ملک کے مستقبل کو ارسطو اور اقبال کے خوابوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہاں درسگاہوں کو تالے لگانا سب سے آسان اور پہلا حل سمجھ لیا گیا ہے۔ ایک عجیب و غریب تضاد ہمارے سامنے برہنہ رقص کر رہا ہے۔ ایک طرف پٹرول کی بچت کا عذر پیش کر کے اسکول بند کیے گئے، تو دوسری طرف مری کی سڑکوں پر 70 ہزار گاڑیوں کا اژدھام اس بچت کے دعوے کا منہ چڑا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات پر لاکھوں سیاحوں کی آمد اور وہاں ہزاروں گیلن جلنے والا ایندھن کسی انتظامی آنکھ کو نظر نہیں آتا، مگر جوں ہی طالب علموں کی بسوں کی باری آتی ہے، ریاست کو معیشت کا بخار چڑ جاتا ہے۔ کیا تفریح اور سیاحت، تعلیم اور شعور سے مقدم ہو گئی ہے؟
اعداد و شمار کی دنیا میں جھانکیں تو یہ فیصلہ منطق سے عاری معلوم ہوتا ہے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں کے 79 فیصد اور نجی اسکولوں کے 52 فیصد بچے تو اسکول پیدل جاتے ہیں۔ پورے ملک میں روزانہ خرچ ہونے والے 60 ملین لیٹر پٹرول کا صرف 15 فیصد تعلیمی سرگرمیوں میں صرف ہوتا ہے۔ تو کیا اس حقیر سی فیصد کی قربانی دے کر ہم ملک کو معاشی دلدل سے نکال لیں گے؟ یا ہم دراصل اس نسل کو ذہنی اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں جس نے کل اس بحران کا حل نکالنا تھا؟
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25 (A) چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ 5 سے 16 سال کے ہر بچے کو مفت اور بلا تعطل تعلیم فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر جب ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے اس مقدس حق کو پٹرول پمپ کی قطاروں میں کھڑا کر دیا جائے، تو یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہتا، بلکہ آئین کی روح پر کاری ضرب بن جاتا ہے۔ ہم پہلے ہی اس ملک میں 3 کروڑ بچوں کو اسکولوں سے باہر (Out of School) دیکھ رہے ہیں، کیا ہم اس فوج ظفر موج میں مزید لاکھوں کا اضافہ کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
والدین کی دہائی بھی بجا ہے، جو خون پسینہ ایک کر کے سال بھر کی بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں مگر ان کے بچے بمشکل 120 دن اسکول کی شکل دیکھ پاتے ہیں۔ تعلیمی سال کا بیشتر حصہ مختلف چھٹیوں کی نذر ہو جاتا ہے- کبھی سموگ کے نام پر، کبھی سیاسی ہیجان کے نام پر اور اب پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کے نام پر۔ کیا یہ ہمارے پورے قومی ڈھانچے اور ترجیحات پر ایک سیاہ دھبہ نہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب ایک بچہ مسلسل تعلیمی تعطل کا شکار ہوتا ہے، تو اس کی سیکھنے کی صلاحیت کس طرح زنگ آلود ہو جاتی ہے؟
حل کی تلاش میں نکلیں تو صرف تنقید سے منزل نہیں ملے گی۔ یہ امر واقعی قابلِ ذکر ہے کہ پٹرول کے عالمی بحران نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اور حکومتِ وقت لاک ڈاؤن اور ایندھن کی بچت کے لیے کوشاں ہے۔ لیکن کیا اس بچت کا واحد راستہ درسگاہوں کی مکمل تالہ بندی ہی ہے؟ ریاست اگر چاہے تو بے شک اسکولی ٹرانسپورٹ پر سخت پابندی عائد کر دے، مگر خدارا علم کے دروازے بند نہ کرے۔ یقین جانیے! والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر ہر کٹھن راستہ چننے کو تیار ہیں۔ وہ ٹرانسپورٹ کے بغیر بھی بچوں کو اسکول بھیجیں گے، چاہے انہیں سائیکل کا سہارا لینا پڑے، سولر سواری میسر ہو، یا انہیں اپنے لختِ جگر کو کندھوں پر بٹھا کر منزل تک پہنچانا پڑے۔ وہ یہ سب کر گزریں گے، بس آپ ان درسگاہوں کی تالہ بندی ختم کیجیے۔
آن لائن کلاسز کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، مگر کیا ہم نے دیہی علاقوں کے ان بچوں کے بارے میں ایک لمحے کو بھی سوچا جہاں انٹرنیٹ کا سگنل ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے؟ جہاں بجلی کا وجود ہی عید کے چاند جیسا ہو، وہاں ڈیجیٹل تعلیم کا خواب ایک بھونڈا مذاق معلوم ہوتا ہے۔ ان موجودہ حالات میں کیوں نہ ایک ہائبرڈ ماڈل ترتیب دیا جائے؟ ہفتے میں تین دن اسکول اور دو دن گھر پر مطالعہ، جس سے ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہو اور معصوم ذہنوں کا تعلیمی رشتہ بھی برقرار رہے۔
آج سوشل میڈیا پر اسکول پرنسپلز اور اساتذہ کی مہم ایک مدھم سی امید کی کرن ہے۔ یہ وقت ہے کہ سول سوسائٹی، دانشور اور والدین مل کر ایک ایسی آواز بنیں جو ایوانوں کے بند دروازوں کے پار سنائی دے سکے۔ ہمیں وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات اور فیصلہ سازوں تک یہ پیغام پہنچانا ہوگا کہ علم کی شمع کو اس طرح بے دردی سے بجھنے نہ دیا جائے۔
تعلیم صرف کاغذ کے ٹکڑوں اور کتابوں کے چند اوراق پلٹنے کا نام نہیں، یہ قوموں کے وقار اور خوابوں کی تعبیر کا واحد راستہ ہے۔ جب آپ راستے ہی مسدود کر دیں گے، تو منزلیں دھندلا جائیں گی۔ یاد رکھیے، ایندھن کی کمی سے صرف پہیے رکتے ہیں، مگر تعلیم کی کمی سے قوموں کی تقدیر کا سفر رک جاتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو ایک روشن مستقبل کی نوید دینا چاہتے ہیں یا انہیں بند دروازوں کے پیچھے قید سسکتے ہوئے ادھورے خوابوں کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔
