آج کے دور کا انسان اگر اپنی پسند کا
لباس،جوتا،گھڑی،پرفیوم، کریم پر سمجھوتا نہیں کرتا ،تو
زندگی کا ہمسفر چننے میں موت جیسی سزا کیوں؟؟؟حالانکہ یہ زندگی بھر کا سمجھوتہ ہے۔یہ بات کیوں ہمارے معاشرے کی سمجھ میں نہیں آتی؟؟؟
زندگی کا ہمسفر چننے کا فیصلہ بہت سمجھداری سے کرنا چاہیے۔اسلام اس فیصلے میں میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔دونوں خاندانوں کا رہن سہن ،طوراطوار، ماحول، تعلیم یہ سب برابر ہونا چاہیئے۔تاکہ دو لوگ جو زندگی گزاریں وہ ایکدوسرے کو سمجھ سکیں اور باعزت زندگی گزاریں۔
اگر پسند کی بات کریں تو پسند کا اختیار اللہ رب العزت نے انسان کو دیا ہے۔اس کے حصول کے لیے اللہ کی حدود کی پامالی اور حدود کو توڑنا گناہ کبیرہ ہے۔
مرد کو عورت کو دیا گیا نایاب تحفہ عزت ہے جو شخص عزت نہیں دے سکتا وہ ناقابل اعتبار شخص کہلاتا ہے۔باعزت مرد پوری عزت اور وقار کے ساتھ عورت کو اپنائے گا۔
اور اسے اپنی قیمتی متاع حیات سمجھے گا۔باعزت طور ولی کو رشتہ بھجوانا باعزت رشتے کا آغاز ہے اور ولی کو محض
برادری ،انا اور تکبر میں رشتے کو ریجیکٹ نہیں کرنا چاہیے۔ولی کو بیٹی سے مشورہ کرنا چاہیے اگر رشتہ باعزت
ہے،باکردار،اخلاق میں اچھا ہےتو فیصلہ کر دینا چاہیے۔اگر میرٹ نہیں ہے تو ریجیکٹ کر دینا چاہیے۔اور مرد کو اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیئے۔
ہمارے جاہل معاشرے میں اس بات پر بھی لڑکیاں قتل ہو جاتی ہیں ۔ذلیل کر دی جاتی ہیں۔
یہ بات سچ ہے کہ بیٹی کا خیرخواہ باپ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی
نہیں ہو سکتا۔وہ جو فیصلہ کرے گا بہتر کرے گا۔یہ بھی ممکن ہے ولی کے سامنے جو رشتہ آیا ہو وہ بیٹی کے مزاج،معیار کے مطابق نہ ہو اور ولی کا اپنا خونی رشتہ ہو عموما ہمارے معاشرے میں خرابی جذبات میں کئے گئے فیصلوں میں ہوتی ہے۔اس کا انجام میں عورت سمجھوتا کرتی ہے اور مرد دوسری شادی کر لیتے ہیں ۔
نتیجتاعورت کی ساری زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔اور دوسری طرف نوجوان لڑکیاں زبردستی کے رشتوں پر بغاوت بھی کرتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک اجتماعی خرابی ہے ہم دین کو صرف چار شادیوں سے بہتر حوروں تک کا سفر سمجھتے ہیں ۔مرد کے اپنے متعلق بات آئے گی تو وہ شریعت اور سنت کو سامنے لے آئے گا اور اگر بات عورت کے حقوق کی آئے گی تو گھسا پٹا کلچر سامنے رکھ دیا جائے گا۔جس کی وجہ سے معاشرے میں توازن نہیں آتا۔غیر منصفانہ فیصلے معاشرے میں عدم استحکام اوربغاوت پیدا کرتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ منافقت،ظلم اور ناانصافی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔جس کی وجہ سے اللہ کی رحمت اس معاشرے سے اٹھ چکی ہے۔
ہمارے معاشرے کے نام نہاد غیرت مندوں کو نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پڑھنی چاہیئے اور دیکھنا چاہیے کہ ہمارے نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح فیصلے کیے۔
میرے پیارے نبی مہربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دشمن کی بیٹی جب جنگی قیدی بن کر آئی تو اس کے سر پر اپنی چادر اتار کر ڈالی اور اسے باعزت اور بحفاظت رخصت کر دیا۔یہ کیسے دیں کے پیروکار ہیں جو گھر کی عزت کو جو نکاح کر کے سال بھر سے شوہر کیساتھ رہ رہی ہے دھوکے سے گھر بلوا کر اس کو لوگوں کے مجمے میں لے جا کر سرعام گولیوں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔اور وہ قرآن ہاتھ میں اٹھائے کہتی ہے ۔گولی مارنے کا حکم ہے نہ مجھے ہاتھ لگانا اورنہ میری لاش کی بے حرمتی کرنا۔میں نے نکاح کیا ہے زنا نہیں کیا۔
پاکیزہ محبت ،پسندیدگی کا انجام نکاح جیسا مبارک عمل ہی ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ سب گمراہی اور گناہ کبیرہ کے اعمال ہیں۔جن کی سزا سخت اور اللہ کی سخت ناراضگی بھی ہے۔
ڈوب کر مر جانے کا مقام ہے ایسے بے غیرت نام نہاد غیرت مندوں کو جن کو عورت کو حقوق دینے ہوں،وراثت دینی ہو تو موت پڑ جاتی ہے اور اگر جان سے مارنا ہو تو غیرت جاگ جاتی ہے۔اور اگر کردار دیکھنا ہو تو اس مجمے میں ایک بھی اسلام کے معیار پر پورا نہیں اترتا ہو گا۔
ریاست کو ایسے سفاک لوگوں کو نشان عبرت بنانا چاہیئے تاکہ بہت سی بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔
انسانیت اوراسلام میں عورت کی عزت اور مقام سے متعلق مضامین نصاب میں شامل کرنے چاہیں۔تاکہ لوگوں میں شعور آ سکے کی انسانیت کتنا بڑا منصب ہے اور عورت رحمت ہے،ایمان کی تکمیل ہے اور قدموں میں جنت لیے پھرتی ہے۔اور اللہ کا فرمان ہے عورتوں کے معاملے میں مجھ سے ڈرو۔