بہت سے لوگوں نے بھارتی فلم کا مشہور گانا ضرور سنا ہوگا” یہ اندھا قانون ہے! …. لگتا ہے گلوکار نے قانون پر بہت بڑا الزام لگا دیا تھا۔ ہمارا تو قانون اندھا نہیں….نہایت تیز نظر اور مصلحت بیں ہے…. عام آدمی کو مائیکرو اسکوپ سے دیکھتا ہے اور طاقتور کو دھندلے شیشوں کے پیچھے سے…. یہ بات میرے ذہن میں اس وقت آئی جب پی ٹی سی ایل سے متعلق ایک خبر آنکھوں سے ٹکرائی اور دماغ سے جا لگی۔
پاکستان میں قانون آئین کی شق نہیں…. مزاج ہے…. جس کے پاس طاقت …. اس کےلئے نرم گدّا….کمزور کےلئے کانٹوں بھری کرسی….!
پی ٹی سی ایل کا معاملہ کوئی سکینڈل نہیں…. یہ مشرف دور میں لکھی گئی ایک اور ریاستی کامیڈی سیریز کی تازہ قسط ہے۔ ہر قسط میں کبھی ڈالر چمکتے ہیں…. کبھی فائلیں….!
گزشتہ دنوںسینیٹ کمیٹی کے اجلاس پی ٹی سی ایل کے بورڈ اجلاسوں میں شرکت کے معاوضوں کے بارے میں پوچھا گیا….جواب ڈالر میں آیا…. پتہ یہ چلا کہ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ اور تین حاضر سروس وفاقی سیکریٹریز کو ان اجلاسوں کے عوض ڈالر میں ادائیگیاں کی گئیں ہیں…. یہ عالمی معیار ہے۔ آخر ہم کیوں پیچھے رہیں؟ ہمارے ہاں غربت مقامی ہے، مگر مراعات درآمد شدہ….
تو کیا ہوا ….اگر فیصلے روپے میں ہوتے ہیں اور مراعات ڈالر میں لی جاتی ہیں؟
تو کیا ہوا ….اگر قوم ٹیکس مقامی کرنسی میں دیتی ہے اور اشرافیہ کمائی بین الاقوامی ریٹ پر کرتی ہے؟
تو کیا ہوا ….اگر آٹھ ہزار ڈالر میں ایک عام شہری کے سال بھر کے خواب پورے ہو سکتے ہیں؟
….یہاں خواب عوام دیکھتی ہے اور تعبیر اشرافیہ کو ملتی ہے ….
…. ہم جس نظام میں جی رہے ہیں اس میں عوامی مفاد نہیں، صرف ”ایجنڈا آئٹم نمبر تین“ دیکھاجاتا ہے۔ باقی سب ذیلی نکات ہیں جو چائے کے وقفے میں قہقہوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے حکم دیا: حد مقرر ہے، اضافی رقم واپس کرو۔
کمیٹی نے پوچھا” وزیراعظم نے حکم دیا تھا روپیہ واپس کرو۔۔ کیا یا نہیں ؟“جواب میںخاموشی ….یہ خاموشی طاقت ورکی زبان ہوتی ہے…. جو جواب دیتی نہیں…. جواب لیتی ہے…. حکم نامہ طاقتور کے لئے مشورہ ہوتا ہے….اور کمزور کے لئے نوٹس….
توشہ خانہ میں اگر ایک گھڑی آ جائے تو پورے نظام کو بخار ہو جاتا ہے…. پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں…. بریکنگ نیوز چلتی ہے…. عدالتیں لگ جاتی ہیں….لیکن پی ٹی سی ایل سے اگر ڈالر آ جائیں تو نظام کو نیند آ جاتی ہے۔ گہری، پرسکون نیند….!
یہ ہے ہمارا کمال….ایک قانون….کئی استعمال…. کسی نے گورننس کا کورس کرنا ہو تو ہمیں انسٹرکٹر بنا لیں۔
نجکاری کی کہانی تو ویسے ہی المیہ ہے…. اثاثے گئے…. کنٹرول گیا…. فائدہ گیا…. صرف تقریریں بچیں…. عوام کے حصے میں صرف بل آئے…. بجلی ، گیس ،پانی، موبائل اور آخر میں صبر کا بل….
یہاں خبر نکلتی ہے، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے مگر نتیجہ کبھی نہیں نکلتا اور اگر نکلتا بھی ہے تو کسی کو علم نہیں ہوتا
کمیٹیاں بنتی ہیں مگر انصاف نہیں بنتا۔
رپورٹس تیار ہوتی ہیں مگر ذمہ دار تیار نہیں ہوتے۔
اصل مسئلہ پی ٹی سی ایل نہیں…. مسئلہ وہ طبقہ ہے جس کیلئے قانون ایک ایسی بے وقعت فائل ہے….جب چاہا بند کر دی….جب چاہا کھول لی….جب چاہا دبا دی۔
اور قانون تو بالکل بھی اندھا نہیں…. شناخت کرتا ہے…. چہرہ اور عہدہ دیکھ کر نظر رکھنے یا نظر چرانے کا فیصلہ کرتا ہے۔
”قانون سب کے لئے برابر ہے“ یہ جملہ آئین کی کتاب میں بہت خوبصورت لگتا ہے۔ عدالت کی دیوار پر بھی اچھا لگتا ہے لیکن حقیقت میں پوسٹر ہے جس پر صرف دستخط ہوتے ہیں…. عمل نہیں۔
معاملہ اجلاس میں شرکت کا ہو…. معاوضہ ڈالر میں لیا جائے یا روپے میں…. دونوں مختلف حالتیں ہیں….روپیہ لینے والا پکڑا جاتا ہے….ڈالر لینے والا پالیسی بناتا ہے۔
یاد رکھیں….ریاست قانون سے نہیں ٹوٹتی….ریاست دوہرے معیار سے ٹوٹتی ہے۔
جب قانون کوطاقتور کیلئے قالین اور عوام کیلئے کانٹا بنا دیا جائے….تو پھربداعتمادی آتی ہے….خاموش غصہ آتا ہے….اور وہ سب کچھ آتا ہے جس کا انجام نہ کسی فائل میں محفوظ ہوتا ہے نہ کسی کمیٹی کے ایجنڈے میں….تب صرف ایک سوال رہ جاتا ہے….”یہ اندھا قانون ہے…“؟