بھارت میں ڈیجیٹل سنسرشپ میں اضافہ، اظہارِ رائے کی آزادی متاثر
بھارتی وزارتِ داخلہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل سنسرشپ اور حکومتی مداخلت کی صورتحال کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت اوسطاً روزانہ 290 مواد ہٹانے کے نوٹس جاری کر رہی ہے، جسے شہریوں کے اظہارِ رائے کی آزادی پر اثر انداز ہونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین جگر کے عاج ترین مرض کا ممکنہ مؤثر علاج دریافت کرنے میں کامیاب
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79(3)(b) کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تین گھنٹوں کے اندر مواد ہٹانے کا پابند بنایا جا رہا ہے، جس پر قانونی اور عملی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ یہ اقدام پلیٹ فارمز کی خودمختاری کو بھی محدود کرتا ہے۔
مزید یہ کہ ان نوٹسز کی ایک بڑی تعداد سیاسی تنقید، خاص طور پر مرکزی وزراء اور سرکاری اداروں کے خلاف مواد کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
دوسری جانب، سائبر سیکیورٹی کے واقعات میں نمایاں اضافہ، جو کہ تقریباً 29 لاکھ تک پہنچ چکا ہے، حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت اپنی توجہ ان مسائل کے حل کے بجائے عوامی آواز کو محدود کرنے پر مرکوز کر رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر متعارف کرائی گئی پالیسیاں ملک میں اختلافِ رائے کی گنجائش کو کم کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں۔