Gas Leakage Web ad 1

کیا ملٹی وٹامنز بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں؟

کیا ملٹی وٹامنز بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں؟

0

حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ ملٹی وٹامن استعمال کرنا بڑھاپے کے عمل کو کسی حد تک سست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ عمر رسیدہ افراد جنہوں نے دو سال تک روزانہ ملٹی وٹامن سپلیمنٹ استعمال کیے، ان میں بڑھاپے کے اثرات ان افراد کے مقابلے میں تقریباً چار ماہ تک سست دیکھے گئے جنہوں نے یہ سپلیمنٹ استعمال نہیں کیے تھے۔

مطالعے کے شریک مصنف کے مطابق اس تحقیق کا مقصد صرف یہ جاننا نہیں تھا کہ لوگ زیادہ عرصے تک کیسے زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھنا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر اور صحت مند انداز میں کیسے گزار سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر اس ڈیٹا کو براہِ راست طبی نتائج سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا، تاہم دو سال کے دوران ملٹی وٹامن کے استعمال سے سامنے آنے والے اثرات اسی سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

عمر رسیدگی کے سائنسی مطالعے کے ماہر اسٹیو ہوروتھ نے اس تحقیق کو انتہائی دلچسپ قرار دیا ہے۔

ان کے مطابق عام لوگوں میں اس بات کے بارے میں کافی تجسس پایا جاتا ہے کہ آیا روزمرہ استعمال کیے جانے والے سپلیمنٹس واقعی بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں یا نہیں، اور یہ تحقیق اس حوالے سے اب تک دستیاب نسبتاً مضبوط شواہد میں سے ایک فراہم کرتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے ستر برس سے زائد عمر کے 958 صحت مند افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔

شرکاء کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے محققین نے خون کے نمونوں میں موجود پانچ ایپی جینیٹک کلاکس کا جائزہ لیا۔ یہ دراصل حیاتیاتی بڑھاپے کے بائیو مارکرز ہوتے ہیں جو ڈی این اے میتھائلیشن یعنی جینوم کے مخصوص مقامات پر موجود سالماتی نشانات کے پیٹرن کو ناپ کر بڑھاپے کے عمل کا اندازہ لگاتے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ان نشانات کی سطح مخصوص مقامات پر ایک قابلِ پیش گوئی انداز میں کم یا زیادہ ہوتی جاتی ہے۔

تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوا کہ روزانہ ملٹی وٹامن لینے سے ان پانچ میں سے دو ایپی جینیٹک کلاکس میں بڑھاپے کے اشاریوں کی رفتار نمایاں طور پر سست ہوئی، جو ممکنہ طور پر موت کے خطرے سے بھی تعلق رکھ سکتے ہیں۔

اگرچہ حیاتیاتی بڑھاپے پر روزانہ وٹامنز کے اثرات کو نسبتاً محدود قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسٹیو ہوروتھ کے مطابق مختلف ایپی جینیٹک کلاکس میں اس طرح کی مسلسل یکسانیت وہی چیز ہے جس کی سائنس دان توقع کرتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.