پاکستان رائٹس موومنٹ کے سربراہ اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے خیبر سے کراچی تک غزہ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ 29 مارچ سے شروع ہوگا اور اس میں امریکہ کے خلاف موقف اختیار کیا جائے گا۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل ایران کی جنگ ہار چکے ہیں اور رمضان کے مقدس مہینے میں قبلہ اول، مسجد اقصیٰ، 69 سال میں پہلی بار بند رہی۔ انہوں نے نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچایا گیا تو صرف آنسو بہانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
امریکا کا ایران کے اسکول پر حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ
انہوں نے غزہ پیس بورڈ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ فراڈ ہے جس کی وجہ سے انڈونیشیا نے اسے چھوڑ دیا، اور پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ غزہ میں تقریباً تین لاکھ بچے شہید ہوچکے ہیں اور اسرائیل بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 72 ہزار ٹرک غزہ میں جانے تھے، مگر صرف 30 ہزار ٹرک پہنچ سکے، جس سے انسانی بحران مزید بڑھ گیا ہے۔