مصنوعی ذہانت (AI) اب ان لاعلاج بیماریوں کے علاج کی راہ ہموار کر رہا ہے جو سائنسدانوں کے لیے برسوں سے ایک چیلنج تھیں۔ پارکنسن، اینٹی بایوٹک مزاحم سپر بگز اور دیگر نایاب بیماریوں کے لیے نئی دوائیں دریافت کرنے میں AI انقلابی کردار ادا کر رہا ہے۔
**سپر بگز کے خلاف جنگ میں AI کا کردار**
آدھی صدی سے انسان بیکٹیریا کے خلاف جنگ ہار رہا ہے۔ اینٹی بایوٹکس کی افادیت کم ہوتی جا رہی ہے اور ہر سال تقریباً 11 لاکھ لوگ ایسے انفیکشنز سے مر جاتے ہیں جو پہلے آسانی سے قابل علاج تھے۔ سنہ 2050 تک یہ تعداد 8 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ نئی اینٹی بایوٹکس تیار کرنا مہنگا اور وقت طلب ہے۔
قدیم غار سے ملنے والا منجمد بیکٹیریا 10 اقسام کی اینٹی بائیوٹکس کیخلاف مزاحم
میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے جیمز کولنز اور ان کی ٹیم نے AI کی مدد سے 45 ملین کیمیائی ساختوں کو سکین کر کے دو نئے مرکبات دریافت کیے ہیں جو سوزاک (گونوریا) اور ایم آر ایس اے جیسے مزاحم بیکٹیریا کے خلاف موثر ہو سکتے ہیں۔ یہ مرکبات پہلے موجود اینٹی بایوٹکس سے مختلف طریقے سے بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں۔
**پارکنسن جیسی پیچیدہ بیماری کی دوا کی تلاش**
پارکنسن کی بیماری 1817 میں دریافت ہوئی لیکن اب تک کوئی علاج اس کی پیش رفت کو نہیں روک سکا۔ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد مریض ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کی مائیکل وینڈروسکولو نے AI استعمال کرتے ہوئے دماغ میں غیر معمولی پروٹین کے جمع ہونے (لیوی باڈیز) کو نشانہ بنانے والی نئی مرکبات دریافت کی ہیں جو بیماری کے ابتدائی مراحل کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
**پرانی دوائیوں کا نیا استعمال**
کچھ معاملات میں نئی دوائی بنانے کی بجائے پرانی دوائیوں کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ڈیوڈ فایگن بام نے اپنی نایاب بیماری "کیسل مین ڈیزیز” کے علاج کے لیے پرانی دوا "سرولیمس” استعمال کی اور صحت یاب ہوئے۔ انہوں نے 2022 میں "ایوری کیور” کے نام سے ادارہ قائم کیا جہاں AI کے ذریعے ہزاروں دوائیوں کو ہزاروں بیماریوں کے لیے دوبارہ جانچا جاتا ہے۔
میک گل یونیورسٹی کے محققین نے AI استعمال کرتے ہوئے "آئیڈیوپیتھک پلمونری فائبروسس” نامی بیماری کے لیے موجود دوائیوں کی افادیت کا دوبارہ جائزہ لیا۔
**AI کے مستقبل کے امکانات**
انسِلِکو میڈیسن، ٹیری، آئسومورفک لیبز اور ریکرشن فارماسوٹیکلز جیسی کمپنیاں AI کا استعمال کرتے ہوئے طبی میدان میں پیش رفت کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگلے 5 سے 10 سال میں زیادہ تر نئی دوائیوں کی ترقی AI کی رہنمائی میں یا مکمل طور پر AI پر مبنی ہو سکتی ہے۔
اگرچہ AI تحقیق میں انقلابی ثابت ہو رہا ہے، لیکن یہ فی الحال ابتدائی اسکریننگ، ہدف کی شناخت اور ممکنہ مالیکیولز کی جانچ میں سب سے زیادہ مددگار ہے۔ مکمل علاج تک پہنچنے میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے۔