نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے قومی خطاب میں شہداء کے خون کا بدلہ لینے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا عہدہ ان سے کئی چیزوں کا تقاضا کرتا ہے اور عوام کی حمایت کے بغیر ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ استقامت کا پہاڑ تھے اور ان کے بعد قیادت سنبھالنا ایک بہت بڑا اور دشوار کام ہے۔
گوگل، مائیکروسافٹ سمیت کئی عالمی کمپنیوں کو ایران کی وارننگ، فہرست جاری
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ آبنائے ہرمز دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے بند رہنی چاہیے اور شہداء کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے خلاف دیگر محاذ کھولنے کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو حالات کے مطابق ان محاذوں کو فعال کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا کہ انہوں نے صرف انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جو دشمن کے زیر استعمال تھے اور آئندہ بھی یہی طریقہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے والوں کے بارے میں اپنا واضح مؤقف بیان کریں اور امریکی فوجی اڈوں کو بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں غلبہ یا نوآبادیاتی تسلط نہیں چاہتا بلکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد اور مخلصانہ تعلقات کے لیے تیار ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے ہدایت کی کہ دشمن کے حملوں میں زخمی ہونے والوں کو مفت اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور مالی نقصانات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دشمن سے ہر صورت نقصان کا معاوضہ وصول کریں گے اور اگر وہ انکار کریں تو ان کے اثاثے ضبط یا تباہ کر دیے جائیں گے۔