تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ قوموں کی تقدیر جب بھی لکھی گئی، اس کی روشنائی قلمِ علم سے کشید کی گئی۔ وہ معاشرے جنہوں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا، وہ ارتقا کی بلندیاں چھوتے گئے، اور جنہوں نے علم کے چراغ بجھنے دیے، وہ وقت کی بے رحم موجوں میں اندھیروں کا رزق بن گئے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی سیاسی، معاشی یا انتظامی بحران جنم لیتا ہے، تو سب سے پہلے جس دروازے پر تالا لگایا جاتا ہے، وہ مدرسے اور اسکول کا دروازہ ہوتا ہے۔ گویا ہر مسئلے کا سہل ترین حل یہی فرض کر لیا گیا ہے کہ تعلیمی عمل کو معطل کر دیا جائے اور نونہالوں کے خوابوں کو جبری تعطیلات کی نذر کر دیا جائے۔ حال ہی میں حکومتِ پنجاب اور بلوچستان کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ آخر تعلیم ہماری ترجیحات میں شامل کیوں نہیں؟ کیا واقعی قوموں کا مستقبل محض نوٹیفکیشن کے چند بے جان جملوں سے معطل کیا جا سکتا ہے؟
حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے شاید ایسے ہی لمحوں کی نزاکت کے لیے کہا تھا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اگر واقعی ہمارا ہر بچہ ایک ستارہ ہے، تو پھر ان ستاروں کی ضیا کو انتظامی فیصلوں کی دھول سے کیوں دھندلایا جا رہا ہے؟ حکومت کی جانب سے اس حالیہ فیصلے کے پیچھے ‘فیول کی بچت’ جیسی دلیل بظاہر بڑی دلکش اور منطقی معلوم ہوتی ہے، مگر تدبر کی عینک سے گہرائی میں جھانکیں تو سوالات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کیا واقعی اسکولوں کو بند کر دینے سے پیٹرول کی کھپت میں وہ نمایاں کمی واقع ہوگی جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسکول وینز ایک مخصوص وقت کے لیے سڑک پر آتی ہیں، بچوں کو اسکول چھوڑ کر ساکت کھڑی رہ جاتی ہیں اور پھر چھٹی کے وقت واپس روانہ ہوتی ہیں۔ تعلیمی تعطل کے نتیجے میں یہی ڈرائیور اور گاڑی مالکان اپنی معیشت بچانے کے لیے سارا دن سڑکوں پر مٹر گشت کرنے اور متبادل روزگار ڈھونڈنے پر مجبور ہوں گے، جس سے بچت کے بجائے ایندھن کا ضیاع ہی بڑھے گا۔
اس فیصلے کا ایک اور تکلیف دہ پہلو وہ ہے جس پر ایوانِ اقتدار میں بیٹھے اربابِ اختیار نے شاید غور کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ حکومت نے آن لائن کلاسز جاری رکھنے کی ہدایت تو جاری کر دی ہے، مگر ہمارے زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ پاکستان کے بیشتر طلبہ چھوٹے قصبوں اور دیہات سے تعلق رکھتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہت سے گھروں میں ایک اسمارٹ فون تک میسر نہیں، اور جہاں ہے وہاں مستقل انٹرنیٹ پیکج کا بوجھ اٹھانا غریب والدین کے بس کی بات نہیں۔ ایسے میں آن لائن تعلیم ایک ایسا سراب بن جاتی ہے جسے دیکھا تو جا سکتا ہے مگر جیا نہیں جا سکتا۔ ڈیجیٹل تعلیم کا نعرہ ان علاقوں کے لیے محض ایک مذاق ہے جہاں بجلی کا آنا جانا بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ منفی اثر میٹرک کے ان طلبہ پر پڑ رہا ہے جن کے بورڈ امتحانات 30 مارچ سے شروع ہونے والے ہیں۔ یہ وہ طالب علم ہیں جنہوں نے پورا سال محنت کی، راتوں کی نیندیں قربان کیں اور اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے۔ اب جب کہ ان کی تیاری کے فیصلہ کن دن ہیں، کلاسیں مکمل طور پر بند کر دینا ان کے ساتھ ناانصافی کی انتہا ہے۔
موجودہ حالات میں صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے یہ گزارش بجا معلوم ہوتی ہے کہ وہ اسکول جو چھوٹے دیہات یا گنجان محلوں میں واقع ہیں، جہاں بچے پیدل، سائیکل یا موٹر بائیک کے ذریعے آسانی سے آ سکتے ہیں۔ جہاں نہ ٹریفک کا دباؤ ہے اور نہ ہی فیول کا کوئی بڑا مسئلہ، وہاں تعلیمی عمل کو روکنے کا جواز کیا ہے؟ کیا ہم اپنی نسلوں کو فکری طور پر مفلوج کر کے معاشی بچت کا خواب دیکھ رہے ہیں؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کو روکنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ایک نئے اور سنگین مسئلے کی بنیاد رکھنا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں بدترین حالات میں بھی اسکول کھلے رکھے جاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر تعلیمی تسلسل ایک بار ٹوٹ گیا تو اس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اگر وسائل کی بچت مقصود ہے تو حکمرانوں کو چاہیے کہ اپنے غیر ضروری پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات میں کمی کریں، نہ کہ بچوں کے بستوں پر تالے لگائیں۔
آخر میں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک منطقی تجویز پیش کرنا وقت کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔ اب جبکہ ملکِ عزیز میں چھٹیوں کا چلن اتنا عام ہو چکا ہے کہ کبھی موسمی حالات، کبھی سیاسی ضرورتیں اور کبھی معاشی مصلحتیں اسکولوں کے در و دیوار سے لپٹ جاتی ہیں، تو حکومت کو چاہیے کہ اب وہ تعلیمی کیلنڈر جاری کرنے کی زحمت ہی نہ کرے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ سال کے بارہ مہینوں میں چھٹیاں اتنی کثرت سے نازل ہوتی ہیں کہ پڑھائی کے دن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔
بہتر یہی ہوگا کہ حکومت اب صرف ان چند گنتی کے دنوں کا اعلان کر دیا کرے جن میں اسکول ’اتفاق سے‘ کھلے رہنے ہیں، باقی سارا سال تو اب سرکاری تعطیل کے ہی نام ہے۔ جب پڑھائی محض ایک پارٹ ٹائم مشغلہ بن کر رہ گئی ہے، تو پھر قوم کو پورے سال کے کیلنڈر سے کیوں پریشان کیا جائے؟ بس وہ چند دن بتا دیں جب بستوں کی جبری جلاوطنی ختم ہونی ہے، تاکہ والدین اور طلبہ کو یاد رہے کہ اس سال تعلیم کا خانہ ابھی بالکل خالی نہیں ہوا۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اگر ہم اس قوم کا مستقبل روشن دیکھنا چاہتے ہیں، تو اسکولوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے ہوں گے۔ جہاں علم کے دیپ جلتے ہیں وہاں صبح اترتی ہے، اور جہاں اسکول کے در بند ہوں وہاں جہالت اور پسماندگی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔ قومیں طویل تعطیلات سے نہیں بلکہ کمرہ جماعت میں ہونے والی تربیت اور علمی تسلسل سے بنتی ہیں۔ امید ہے کہ اربابِ اختیار اس فکری المیے کا ادراک کریں گے اور تعلیم کو تعطیلات کے قید خانے سے نکال کر اس کی حقیقی توقیر بحال کریں گے۔