ماہرین، ارکان پارلیمنٹ اور پالیسی سازوں نے آئندہ بجٹ 2026-27 کی تیاری کے تناظر میں حکومت پر زور دیا ہے کہ بچوں کی تعلیم، صحت، غذائیت اور تحفظ سے متعلق سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے۔
تمام رجسٹرکمپنیوں کیلئےحتمی بینیفشل اونرزکی معلومات دینا لازمی قرار
پری بجٹ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ محدود مالی وسائل، بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور سرکاری اخراجات کے موجودہ ڈھانچے کے باعث انسانی ترقی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی فلاح سے متعلق پروگراموں کے موثر نفاذ، صوبوں کے کردار کو مضبوط بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے صوبائی مالیاتی کمیشن کو فعال بنانا ناگزیر ہے۔
یونیسیف، ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ، پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے اشتراک سے منعقدہ اس اجلاس میں ماہرین نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات اور پنشن کے باعث وفاقی بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں صحت اور تعلیم پر مجموعی سرکاری اخراجات چھ فیصد سے بھی کم ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے نوزائیدہ بچوں کی صحت کی سہولیات میں اضافہ، دیہی علاقوں میں ویکسینیشن کے بہتر نظام، ماں اور بچے کی صحت کے لیے خصوصی بجٹ مختص کرنے، سکولوں کے ڈھانچے پر اخراجات بڑھانے کے ساتھ اساتذہ کی تربیت پر توجہ دینے اور لاوارث بچوں کے لیے واضح قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مالی دباؤ کے باوجود بچوں کی فلاح کے لیے مختص رقوم برقرار رہنی چاہئیں اور پارلیمنٹ کو آئندہ بجٹ میں بچوں کے لیے سماجی شعبوں کی ترجیح کے حوالے سے قومی سطح پر بحث کی قیادت کرنی چاہیے۔