Gas Leakage Web ad 1

دانشمندی کے تقاضے

دانشمندی کے تقاضے

0

*دانشمندی کے تقاضے*
*عابد رشید*

Gas Leakage Web ad 2

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی صرف ایک جنگ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی بساط پر بچھا ہوا ایک بڑا کھیل ہے۔ اس کھیل میں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور اکثر چھوٹے یا درمیانے درجے کے ممالک کو ان کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ پاکستان کےلئے اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفاد اور بقا کو ہر دوسری ترجیح پر مقدم رکھے۔
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پرسابق امریکی وزیر خارجہ کے بیان” امریکہ کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ مہلک ہوتی ہے“ کے تناظر میں نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوجاتی ہے کہ یہ رشتہ زیادہ تر امریکہ کی سٹریٹجک ضرورتوں اور وقتی مفادات کے زیرِ اثر رہاہے۔ سرد جنگ کے دور میں پاکستان کو خطے میں کمیونزم کے پھیلاو¿ کو روکنے کےلئے ایک اہم مورچے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ 1950 اور 1960 کی دھائی میں دفاعی اتحادوں Southeast Asia Treaty Organization اورCentral Treaty Organization میں شامل کیا گیا۔ اس شراکت داری کے بدلے میں پاکستان کو فوجی اور اقتصادی امداد تو ملی مگر جب 1965 کی پاک بھارت جنگ اور پھر 1971 کی جنگ جیسے نازک مراحل آئے تو واشنگٹن کی حمایت محدود اور محتاط ثابت ہوگئی۔
افغان جنگ (1979–1989) کے دوران ایک بار پھر پاکستان کو خطے میں امریکی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنایا گیا۔ سوویت افواج کے خلاف مزاحمت میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا لیکن جبSoviet-AfghanWar ختم ہوئی تو امریکہ کی ترجیحات پھر بدل گئیںجس کے نتیجے میں پاکستان کو پابندیوں اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جس کی ایک نمایاں مثال PresslerAmendment تھی۔ اس سے پاکستان کے بالخصوس عوامی حلقوں میں یہ احساس مزید گہرا ہو گیا کہ خارجہ پالیسی کو کسی ایک عالمی طاقت کے گرد مرکوز رکھنا طویل المدتی مفادات کےلئے سودمند نہیں ۔
اسی پس منظر میں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں سوویت قیادت نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو سوویت یونین کے دورے کی دعوت دی تھی۔ تاہم جغرافیائی اور نامعلوم سیاسی ترجیحات کے باعث پاکستان نے روس کے بجائے امریکہ کا رخ کیا اور اس طرح خارجہ پالیسی کا جھکاو¿ ایک مخصوص سمت میں مضبوط ہوتا گیا۔ اگر اس زمانے میں ماسکو کے ساتھ متوازن تعلقات استوار کئے جاتے تو آج پاکستان کو بعض اسٹریٹجک مشکلات کا سامنا کم کرنا پڑتا۔
چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک مختلف نوعیت کی مثال پیش کرتے ہیں۔ 1960 کی دہائی سے لے کر آج تک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی ایک مسلسل روایت قائم رہی ہے۔ دفاع، سفارت کاری اور اقتصادی شعبوں میں اس تعاون کی جھلک نمایاں طور پر پاک چین اقتصادی راہداری میں نظر آتی ہے جو نہ صرف پاکستان کےلئے معاشی امکانات کا ایک بڑا دروازہ ہے بلکہ خطے میں اقتصادی ربط اور جغرافیائی توازن کی ایک اہم مثال بھی ہے۔
بتدریج ایک کثیر القطبی شکل اختیار کرتا ہواموجودہ عالمی نظام اس امر کامتقاضی ہے کہ پاکستان اپنی داخلی اور خاص کر خارجہ پالیسی میں توازن، وسعت اور حکمت کو جگہ دے۔دانشمندی یہ ہے کہ روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو مذید وسعت دیتے ہوئے انہیں محض رسمی روابط کے بجائے تزویراتی گہرائی تک لے جایاجائے۔ متوازن سفارتکاری نہ صرف پاکستان کی اقتصادی اور دفاعی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکتی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی مستحکم بنا سکتی ہے جس کے نتیجے میں مشرقی سرحدوں کو درپیش ممکنہ خطرات کا مقابلہ زیادہ اعتماد کے ساتھ کیا جا سکے گا۔
پاکستان کیلئے توانائی کا مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی بحران کے دوران تیل اور گیس کی فراہمی کسی بھی ملک کی معیشت اور دفاعی صلاحیت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ روس اس وقت دنیا کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور روسی تیل عالمی منڈی میں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہے۔ جغرافیائی اور تجارتی راستوں کے حوالے سے بھی یہ امکان موجود ہے کہ مناسب انتظامات کے ذریعے روسی تیل پاکستان تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان اس سمت میں سنجیدہ حکمتِ عملی اختیار کرے تو وہ نہ صرف توانائی کے اخراجات کم کر سکتا ہے بلکہ اپنی اقتصادی سلامتی کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ مذید یہ کہ ان ملکوں کے تعاون سے پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے بھی نکل سکتا ہے۔
مشرق وسطہ کے بدلتے حالات اور مشرقی سرحدوں پر منڈلاتے مسلسسل خطرات کے تناظر میں پاکستان کو فوری طور پر اپنے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک کے پاس کم از کم چھ ماہ کی ضروریات کے برابر ذخیرہ موجود ہو۔ اس کے لئے نئی آئل سٹوریج تنصیبات، علاقائی توانائی تعاون اور متبادل سپلائی چین کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ توانائی کا تحفظ دراصل قومی سلامتی کا ہی ایک اہم حصہ ہے۔
خطے کے سلامتی کے ماحول میں ایک اور اہم عنصر بھارت کے ساتھ کشیدگی ہے۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو ہمیشہ حساس سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر خطے میں کسی بڑے بحران کے باعث پاکستان معاشی یا توانائی کے دباو¿ کا شکار ہوتا ہے تو بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ پاکستان کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کو ہر ممکن حد تک مضبوط اور متوازن بنائے۔
اسی مقصد کےلئے چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ قریبی اور دیرپا تعلقات پاکستان کےلئے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین پہلے ہی پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے جبکہ روس کے ساتھ توانائی، تجارت اور دفاعی تعاون کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ان تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے تو پاکستان کو نہ صرف معاشی سہارا مل سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک مو¿ثر دفاعی توازن بھی قائم رہ سکتا ہے۔
موجودہ عالمی منظرنامہ عرب دنیا کے لئے بھی ایک واضح پیغام رکھتا ہے….خطے کی سیاست میں بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کو مقدم رکھتی ہیں اور عرب ریاستوں کو اس حقیقت کا باریک بینی سے ادراک ہونا چاہئے۔ مغربی طاقتیں ان ممالک کے ساتھ تعلقات صرف اسی لئے قائم رکھتی ہیں کہ ان کے پاس دولت اور عسکری خریداری کی قوت ہے۔ زیادہ تر عرب ممالک کے پاس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا مستقل نظام موجود نہیں اور جو تھوڑا بہت نظام ہے وہ بھی مغربی دنیا پر انحصار کرتا ہے۔
یہ ایک ایسا سبق ہے جو ہمیں محتاط اور متوازن سفارت کاری کی ضرورت یاد دلاتا ہے۔ اگر عرب ممالک خطے میں باہمی تعاون کو مضبوط کریں اور پاکستان جیسے شراکت داروں کو معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم بنانے میں کردار ادا کریں تو نہ صرف ان کے اپنے مفادات کا تحفظ ہوگا بلکہ پورے خطے میں استحکام کا دروازہ بھی کھلے گا۔ یہ تاریخی موقع ہے کہ مشرق وسطیٰ خود کو محض عالمی طاقتوں کا محتاج نہیں بلکہ ایک فعال، خودمختار اور متوازن کردار ادا کرنے والا خطہ بنا سکے۔
پاکستان کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے یہ ممالک اپنا موثر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا نظام قائم کر سکتے ہیں جو آنے والے وقت میں خطے کی دفاعی، معاشی اور ٹیکنالوجیکل ضروریات کا ضامن بنے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے یورپی ممالک نے Euro کے ذریعے مشترکہ کرنسی کا نظام تشکیل دے کر اقتصادی بالادستی میں توازن پیدا کیا۔ پاکستان اور عرب ممالک بھی روس اور چین کو شریک کر کے مشترکہ کرنسی یا اقتصادی نظام ترتیب دے سکتے۔ یہ اقدام نہ صرف عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی بالادستیکا متبادل ہو گا بلکہ خطے میں معاشی خودمختاری کو بھی مستحکم کرے گا۔
دانشورانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ تعلقات محض اقتصادی یا سیاسی مفادات تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ ایک ایسا تزویراتی نظام ہے جو خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرے گا…. وسائل اور علم کی تقسیم کو منصفانہ بنائے گا اور داخلی و خارجی خطرات کے مقابلے کےلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔پاکستان اور عرب ممالک اس دانشورانہ بصیرت کے ساتھ تعلقات استوار کریں تو نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ دنیا کے طاقتور مراکز کو بھی ایک نیا توازن قبول کرنا پڑے گا۔
یہ فلسفہ محض تجویز نہیں بلکہ عملی حکمتِ عملی کا تقاضا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دوسروں کے گھر کو روشن کرنے کےلئے اپنے گھر کو آگ لگانا دانشمندی نہیں ہوتا بلکہ محتاط، متوازن اور خودمختار تزویراتی روابط ہی مستقبل کی روشنی کی ضمانت بنتے ہیں۔
پاکستان کی عسکری صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت اسے اسلامی دنیا میں ایک اہم مقام دیتی ہے۔ اسی لئے مستقبل میں خطے کی سلامتی کے ڈھانچے میں پاکستان کا کردار مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم ہو تو وہ نہ صرف اپنے دفاع کو یقینی بنا سکتا ہے بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
موجودہ بحران کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض عالمی رہنما اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عرب اور مسلم دنیا کے لئے ضروری ہے کہ وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرے کیونکہ عالمی سیاست میں جذبات کے بجائے مفادات فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر بات یہ کہ قومی سلامتی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اقتصادی استحکام، توانائی کے تحفظ اور متوازن سفارت کاری سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اپنی داخلی و خارجہ پالیسیوں کو نئے عالمی حالات کے مطابق ترتیب دے تو وہ نہ صرف موجودہ بحران سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر سکتا ہے۔…. رہی بات امریکہ کی تو اس کی حالت اس گدھے کی سی ہے جسے ادھر ادھر دولتیاں جھاڑنے کی عادت ہوتی ہے اور اسی عادت کی وجہ سے دولتیاں جھاڑتے جھاڑتے ایک دن وہ ایک بم کو بھی لات مار دیتا ہے اور پھر اس کے پاس اپنی اس حرکت پر پچھتانے کا بھی وقت نہیں رہتا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.