تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا ہے .
علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں رپورٹ ملا ہے کہ کئی امریکی فوجی قید کر لیے گئے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی انہیں کارروائیوں میں ہلاک ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں تاہم وہ حقیقت کو زیادہ دیر تک چھپا نہیں سکتے ۔
امریکی فوج کی بڑی تربیتی مشق اچانک منسوخ، مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تعیناتی کی قیاس آرائیاں
ادھر امریکی فوج نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان ٹم ہاکنز نے ایرانی بیان کو "جھوٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ وہ جھوٹ پھیلا کر دھوکہ دے سکے ۔
اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ خطے کے ممالک جانتے ہیں کہ امریکا اب ان کی سکیورٹی یقینی نہیں بنا سکتا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی اڈے دشمنوں کے لیے استعمال ہوں گے تو ایران کو دفاع کا حق حاصل ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن جارحیت کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے اور امریکا کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی ۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے غلط اندازوں کے دلدل میں پھنس چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کرکے ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خامیوں کے باوجود ایرانی قوم دشمنوں کے خلاف متحد ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا گیا بلکہ جنگ کے باعث صورتحال متاثر ہے ۔ علی لاریجانی نے یہ بھی کہا کہ ایران کو خطے کے ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب پر ایرانی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ۔