واشنگٹن: امریکی فوج کی ایک بڑی تربیتی مشق اچانک منسوخ کر دی گئی ہے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں ممکنہ زمینی فوج کی تعیناتی کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایلیٹ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کی بڑی تربیتی مشق اچانک منسوخ کر دی ہے۔ عملے کو لوزیانا جانے کے بجائے نارتھ کیرولائنا میں ہی رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ڈویژن کے پاس تقریباً 4 سے 5 ہزار فوجیوں پر مشتمل بریگیڈ ہے جو 18 گھنٹوں کے اندر کہیں بھی تعیناتی کے لیے تیار رہتا ہے ۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میٹنگ ملتوی
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج جلد ہی اسی ڈویژن کے ایک ہیلی کاپٹر یونٹ کی مشرق وسطیٰ میں پہلے سے طے شدہ تعیناتی کا اعلان کرنے والی ہے۔ پینٹاگون کے حکام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان دینے سے گریز کیا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کے خلاف زمینی فوج کی "شاید ضرورت نہیں پڑے گی” تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرولین لیوٹ نے بھی واضح کیا کہ زمینی فوج بھیجنا "موجودہ منصوبے کا حصہ نہیں” تاہم صدر اس آپشن کو میز سے ہٹانا نہیں چاہتے ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے خلاف ہے۔ سی این این کے سروے کے مطابق صرف 12 فیصد امریکی اس کے حامی جبکہ 60 فیصد مخالف ہیں ۔ اینگس ریڈ انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں بھی 58 فیصد امریکیوں نے ایران میں زمینی فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی ہے ۔