ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کی نئی شکل دینے والی جی ایل پی-1 ادویات نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
بدھ کے روز برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے تجزیے میں ذیابیطس میں مبتلا چھ لاکھ سے زائد امریکی ویٹرن افیئرز مریضوں کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ یہ ادارہ ان افراد کی دیکھ بھال کرتا ہے جو امریکی فوج میں خدمات دے چکے ہوتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر احتجاج کیس: تمام ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع
تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو اوزیمپک اور مونجارو جیسی ادویات استعمال کرتے ہیں، ان میں الکحل، نیکوٹین، کوکین، اوپیائڈز اور دیگر اشیاء کے نشے میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں کسی بھی قسم کی نشے کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ 14 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جو نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے تھے، ان میں جی ایل پی-1 ادویات کا تعلق اسپتال میں داخلے، اوور ڈوز اور موت کے کم خطرات سے پایا گیا۔ پہلے سے نشے کے عادی مریضوں میں یہ ادویات استعمال کرنے سے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ جانے کے واقعات میں 30 فیصد، اسپتال میں داخلے میں 25 فیصد اور اوور ڈوز میں 40 فیصد کمی دیکھی گئی ۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ ادویات دماغ کے ان حصوں کو متاثر کرتی ہیں جو انعام اور خواہش کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں، جس سے کھانے کی خواہش کی طرح نشے کی طلب بھی کم ہو جاتی ہے ۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یہ ادویات ابھی نشے کے علاج کے لیے منظور شدہ نہیں ہیں ۔