Gas Leakage Web ad 1

عمران خان کو طبعیت خرابی کے سبب اسپتال لایا گیا اور اہل خانہ کو بتایا تک نہیں، اپوزیشن اتحاد

عمران خان کو طبعیت خرابی کے سبب اسپتال لایا گیا اور اہل خانہ کو بتایا تک نہیں، اپوزیشن اتحاد

0

اسلام آباد:
پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن اس بارے میں پارٹی قیادت اور اہلِ خانہ کو آگاہ تک نہیں کیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

یہ بات اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور سلمان اکرم راجہ شریک تھے۔

کوئی جاکرچیف جسٹس کو نہیں بتاتاکہ کیسےکیسےجج لاہور سے ڈیپوٹیشن پرلائےہیں؟ جسٹس محسن اختر

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی اور اس کے بعد آج تک ملاقات کے لیے نہیں بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے لیے پٹیشن بھی دائر کی گئی مگر اس کے باوجود اجازت نہیں ملی۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا اور پھر جیل واپس لایا گیا، جس پر پارٹی اور اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اب تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس بیماری کے باعث اسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کی شدید مذمت کی۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اقتدار کے لیے آئین میں ترامیم کی جا رہی ہیں جس سے عوام میں حکمرانوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 8 فروری تک ملاقاتیں بند نہ کی جائیں اور کہا کہ اگر آج نہیں تو کل عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس بارے میں نہ پارٹی کو علم ہے اور نہ ہی اہلِ خانہ کو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے متعلقہ افراد عوام کی نظروں میں مسلسل گر رہے ہیں اور انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ظلم کیا جائے اور اس کا حساب نہ دینا پڑے۔ ان کے مطابق 8 فروری کو عوام نے انہیں مسترد کیا تھا اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنا فیصلہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان آج باہر ہوتے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بورڈ ہی نہ بنتا اور جب غزہ کے عوام مدد کے لیے پکار رہے تھے تو حکمرانوں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ انتخابی نشان چھین کر اور کارنر میٹنگز روک کر عوام کو خاموش کر دیا جائے گا، مگر عوام نے جو ردِعمل دیا وہ سب نے دیکھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوا، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا، اسی لیے اپوزیشن نے 8 فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتیں نہیں ہو رہیں جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور ملاقاتوں کے لیے پٹیشن دائر کی گئی ہے، تاہم آج معلوم ہوا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس پٹیشن کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ذاتی معالج اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ طرزِ عمل ظلم کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں ممکن ہے سیاست کو بھی دفن کر دیا جائے، تاہم اپوزیشن کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنی ناراضی کا اظہار کرنا چاہیے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.