اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی سیشن کے دوران معاشی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں پائیدار صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلی کے لیے مارکیٹوں میں مسابقت (کمپٹیشن) کا ہونا ناگزیر ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسابقتی پالیسی کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹوں میں مؤثر مقابلے کی فضا کے بغیر صنعتی پالیسیاں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ملکی پیداواری صلاحیت مسلسل کمزوری کا شکار رہتی ہے۔
پنجاب حکومت نےبھی 2026 کیلئے سرکاری تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
کمپٹیشن کمیشن کی جانب سے "مارکیٹ میں مسابقت کے فروغ میں صنعت کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ اس لیکچر میں پاکستان کے صنعتی ڈھانچے، پیداواری چیلنجز اور کمزور مسابقت کے طویل المدتی معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسابقت محض ایک قانونی ضابطہ نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی پالیسی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی برآمدات میں اضافے اور صنعتی جدت کے لیے مسابقت کے قانون کا مؤثر نفاذ ایک کلیدی جزو ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر ندیم جاوید نے اپنے لیکچر کے دوران پاکستان کے مخصوص شعبوں جیسے سیمنٹ، چینی، کھاد، اسٹیل اور آٹوموبائل کی نشاندہی کی جہاں پیداواری صلاحیت میں کمی دیکھی گئی ہے اور وہاں کمپٹیشن بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بعض صنعتوں کو ایس آر اوز (SROs) کے ذریعے تحفظ فراہم کرنا اور سرکاری ملکیتی کمپنیوں کی بے جا حمایت نجی شعبے کی ترقی، جدت طرازی اور برآمدات کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مارکیٹ میں برابری کی سطح پر مقابلہ نہیں ہوگا، نجی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ممکن نہیں ہو سکے گا۔
ماہرین نے جنوبی کوریا، ویتنام، ترکی اور چلی جیسے ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح منظم کمپٹیشن پالیسی، تجارت و سرمایہ کاری میں سہولت اور قانون کے مستحکم نفاذ نے ان ممالک کی پیداواری صلاحیت کو عالمی سطح پر بلند کیا ہے۔ کمپٹیشن کمیشن کی اس لیکچر سیریز کا بنیادی مقصد مسابقتی قانون اور پالیسی پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینا اور ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور پریکٹیشنرز کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے تاکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں مسابقت کے حقیقی کردار سے متعلق آگاہی پیدا کی جا سکے۔