لاہور کی معروف شخصیت ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے، امیر بالاج ٹیپو کے قتل کیس میں نامزد مرکزی اشتہاری ملزم خواجہ تعریف بٹ عرف طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتاری انٹرپول کی مدد سے عمل میں آئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق طیفی بٹ، امیر بالاج کے قتل کے بعد سے مفرور تھا اور دبئی میں حراست میں لیا گیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے جلد پاکستان منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں اسی مقدمے کے ایک اور مرکزی ملزم، احسن شاہ، مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم یونٹ کے مطابق احسن شاہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ اسے نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب اس کے بھائی اور ساتھیوں نے حملہ کیا، جس کے دوران وہ زخمی ہو گیا۔
امیر بالاج ٹیپو کو 18 فروری 2024 کو ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب ایک شادی کی تقریب میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ایک حملہ آور نے شادی میں فائرنگ کی، جس سے امیر بالاج سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا، جبکہ محافظوں کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا تھا۔
ستمبر 2025 میں جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ نے امیر بالاج کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ رپورٹ کے مطابق گوگی بٹ مسلسل طیفی بٹ سے رابطے میں تھا، جو مقدمے کا مرکزی ملزم ہے۔
ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی آئندہ سماعت پر گوگی بٹ کی ضمانت منسوخ کرانے کی سفارش کرے گی۔ واضح رہے کہ گوگی بٹ قتل کے بعد روپوش ہو گیا تھا، تاہم بعد میں اس نے عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی تھی، جو 15 ستمبر تک مؤثر ہے۔
ادھر طیفی بٹ، جو طویل عرصے سے اشتہاری تھا، اب دبئی سے گرفتار ہو چکا ہے اور اسے جلد پاکستان منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔