Gas Leakage Web ad 1

خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

0

سپریم کورٹ نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع نہیں دیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ خلع کا عمل قانونی طور پر اسی صورت درست ہوگا جب خاتون اپنی مرضی اور مکمل رضامندی سے اسے قبول کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کوئی خاتون شوہر کے ظلم یا گھریلو تشدد کی بنیاد پر مقدمہ دائر کرے تو عدالت اسے ازخود خلع میں تبدیل نہیں کرسکتی، کیونکہ ایسا کرنے سے خاتون کے مالی اور قانونی حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

سپریم کورٹ کے مطابق فیملی کورٹس پر لازم ہے کہ وہ خاتون کو یہ اختیار دیں کہ آیا وہ ظلم کے دعوے پر مقدمہ جاری رکھنا چاہتی ہے یا خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کسی ختم شدہ یا ناقابلِ بحالی رشتے کو زبردستی بحال نہیں کرایا جا سکتا۔
12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ ذہنی اذیت، تذلیل، دباؤ، محرومی اور جذباتی تکلیف بھی اس میں شامل ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نظر انداز کرنا یا مسلسل ذہنی دباؤ بھی ذہنی ظلم کی شکل ہو سکتا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار فوجداری مقدمات سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے گھریلو تنازعات میں عینی شاہد یا ایف آئی آر جیسے سخت شواہد کی شرط عائد نہیں کی جانی چاہیے۔ عدالتوں کو حالات، رویے اور مجموعی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔عدالت نے زیرِ سماعت کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فریقین کی شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جبکہ 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مختصر مدت کی شادی میں بھی ظلم یا ناقابلِ برداشت حالات پیدا ہو سکتے ہیں اور ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے مخصوص حقائق کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
عدالت کے مطابق خاتون ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے جاتے ہیں، تاہم چونکہ ازدواجی تعلق عملی طور پر ختم ہو چکا تھا اور خاتون مسلسل علیحدگی پر قائم رہی، اس لیے خلع کے معاملے پر دوبارہ کارروائی ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے خلع سے متعلق فیصلے کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ فیملی کورٹ کو بھیج دیا تاکہ خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کا تعین کیا جا سکے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ خاتون کا حتمی بیان ریکارڈ کرے اور اس کی مرضی معلوم کرے۔عدالتِ عظمیٰ نے فیملی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ کیس 30 دن کے اندر نمٹایا جائے۔ یہ مقدمہ سوات کی رہائشی سیلاب اختر کی جانب سے اپنے شوہر قوت خان کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.