Gas Leakage Web ad 1

ایئر کنڈیشنر لگائے بغیر گھر کو کیسے ٹھنڈا رکھیں ؟

0

ہیٹ ویوز زیادہ شدید اور بار بار آنے بعد ایئر کنڈیشننگ کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

ماہرین کے مطابق اگر برطانیہ اور اسی طرح کے دیگر ممالک کے شہری گرمیوں کا مقابلہ صرف اے سی لگا کر کریں گے تو وہ ایک مہنگی توانائی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن گرمیوں کے مقابلے کیلئے اے سی لگائے بغیر حل موجود ہے۔

ایک ماہر ہیری بلمور کے مطابق میں نے اور میرے ساتھیوں نے برطانیہ کے 1600 سے زائد گھرانوں کا سروے کیا، جس سے معلوم ہوا کہ 2022 کی گرمیوں میں دو تہائی لوگوں نے پنکھوں اور ہر پانچ میں سے ایک گھرانے نے ایئر کنڈیشنر استعمال کیا۔

زیادہ تر اے سی یونٹس 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی ہیٹ ویو کے دوران یا اس کے بعد خریدے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کی عادات کتنی تیزی سے بدل رہی ہیں۔سروے میں برطانیہ کے 80 فیصد گھروں نے بتایا کہ 2022 کی گرمیوں میں انہیں شدید گرمی کا سامنا رہا، جو ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ سروے میں 2022 سے پہلے کی دہائی میں ایئر کنڈیشنرز کے استعمال میں سات گنا اضافہ دیکھا گیا۔

اے سی پر زیادہ انحصار بظاہر ایک فطری حل لگتا ہے، لیکن اس کے کئی پوشیدہ نقصانات بھی ہیں۔ کولنگ کیلئے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، 2022 اور 2023 میں برطانیہ کو بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے اور ایئر کنڈیشنرز چلانے کیلئے عارضی طور پر کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ دوبارہ فعال کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ گھروں میں سب سے پہلے ایسے “قدرتی یا غیر مشینی کولنگ” اقدامات اپنائے جائیں جو شروع ہی سے ایئر کنڈیشننگ کی ضرورت کو کم کر دیں۔ ان اقدامات میں سایہ دار انتظامات اور کھڑکیوں پر شٹرز لگانا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وینٹیلیشن ،چمکدار اور ہلکے رنگوں والی سطحیں جو سورج کی حرارت کو واپس منعکس کر دیں ، گھروں اور محلوں کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے درخت لگائے جائیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.