تمباکو کی انڈسٹری میں بے قاعدگی: ریسرچ رپورٹ میں 51 فیصد سگریٹ برانڈز غیر قانونی پائے گئے

تمباکو کی انڈسٹری میں بے قاعدگی: ریسرچ رپورٹ میں 51 فیصد سگریٹ برانڈز غیر قانونی پائے گئے

0

اسلام آباد، 24 جنوری 2026: انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) نے تمباکو کی صنعت میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (ٹی ٹی ایس) پر عملدرآمد سے متعلق اپنی دوسری تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹریک اینڈ ٹریس کے نظام پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی تھے۔

تقریب میں پالیسی سازوں، ماہرین معیشت، ریگولیٹری اداروں اور تحقیقی ماہرین نے شرکت کی اور تمباکو کی صنعت میں ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طارق جنید نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے انیس اضلاع کی اڑتیس مارکیٹوں میں واقع پانچ سو بیس دکانوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق اکاون فیصد سگریٹ برانڈز حکومتی قوانین پر پورا نہیں اترتے۔ ان میں ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپ کی عدم موجودگی، کم از کم قانونی قیمت کی خلاف ورزی اور صحت کے قانون کے مطابق تصویری و تحریری ہیلتھ وارننگ نہ ہونا شامل ہیں۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق چار سو ستتر سگریٹ برانڈز میں سے صرف انچاس فیصد مکمل طور پر قواعد و ضوابط پر عمل کرتے پائے گئے، جبکہ تین سو بیس اسمگل شدہ اور ایک سو اکیس مقامی طور پر تیار کردہ برانڈز بغیر ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپ کے فروخت ہو رہے تھے۔ اسی طرح کم از کم قانونی قیمت ایک سو باسٹھ روپے پچیس پیسے کی پابندی بھی مؤثر نہ رہی، جہاں صرف چند سگریٹ برانڈز ہی حکومت کی جانب سے طے کردہ کم از کم قیمت کے برابر یا اس سے اوپر فروخت ہوتے پائے گئے۔

ریسرچ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اگرچہ دکاندار ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے آگاہ ہیں، تاہم صرف چالیس فیصد نے غیر قانونی سگریٹ فروخت کرنے میں کسی بھی مشکل کا سامنا ہونے کی بات کی، جس سے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے کمزور نفاذ کا ثبوت ملتا ہے۔

ازبکستان–پاکستان اسٹریٹجک شراکت: علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون میں نیا باب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے رجسٹرار اور ماہر معاشیات ڈاکٹر ناصر اقبال نے کہا کہ یہ صورت حال متعلقہ اداروں کی کمزوریوں اور مؤثر ہم آہنگی کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مالی نظم و ضبط اور ریگولیٹری اصلاحات کو یکجا کیے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی اسسٹنٹ چیف (پالیسی) محترمہ مہوش ممتاز نے کہا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کمزور عملدرآمد نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، جناب جاوید اقبال نے ادارے کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔

اختتامی کلمات میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سخت نگرانی، مضبوط قوانین اور اداروں کے درمیان بہتر تعاون ہی غیر قانونی تجارت کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سفارشات پیش کی گئیں، جن میں ریٹیل سطح پر سخت نفاذ، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، اور ٹیکس و قیمتوں کے نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔ آئی پی او آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی سازوں کی رہنمائی کرتا رہے گا تاکہ پاکستان میں ٹیکس نظام مضبوط، معیشت مستحکم اور عوامی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.