چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور ملک ضرور ایک طاقتور ریاست بنے گا۔
پیپلز پارٹی کے یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر ضلع میں پیپلز پارٹی کے کارکن موجود ہیں اور وہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں موجود جیالوں سے مخاطب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور آئین کی بنیاد رکھی جبکہ بے نظیر بھٹو نے عوام اور آئین کے لیے مسلسل جدوجہد کی اور اسی راہ میں شہادت پائی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ پاکستان کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے فلسفے کو آگے بڑھایا اور بلوچستان کے عوام کو پہلی بار ان کا حق دیا۔ بلاول بھٹو کے مطابق پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو مثبت سیاست کر رہی ہے اور حال ہی میں حکومت کے ساتھ مل کر آئینی ترمیم منظور کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انقلابی آئین سازی کی ہے، 1973 کا آئین ہو یا 18ویں ترمیم، یہ سب اتفاقِ رائے سے کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان پر وہ شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو دیا گیا حق واپس لیا جائے مگر پیپلز پارٹی نے صوبوں کے آئینی تحفظ کے لیے یہ مطالبہ مسترد کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پہلا فاؤنڈیشن ڈے ہے جب پاکستان نے مئی میں بھارت کو عبرتناک شکست دی اور اس کے سات جہاز مار گرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن آج بھی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے لیکن ملکی سلامتی کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کررہا ہے اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، وفاقی وزیر خزانہ
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نئی قائم ہونے والی آئینی عدالت کے ججوں پر بڑی ذمہ داری ہے اور امید ہے کہ یہ عدالت انصاف فراہم کر کے اپنا اعتماد بحال کرے گی۔ کچھ عناصر عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ عدالت اپنے فیصلوں سے انہیں غلط ثابت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے محنت کش، مزدور اور کاروباری افراد ملکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو دور میں کہا تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے لیکن قوم بنائیں گے، اور آج بھی ملک کی ترقی اور دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ صوبوں کو ٹیکس اکٹھا کرنے کا اختیار ملا تو انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ کا منصوبہ جاری ہے اور مستحقین کو حقوق فراہم کیے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے بجلی کے بلوں میں رعایت اور زرعی ایمرجنسی کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا۔ سندھ نے بھی چھوٹے کسانوں کی مدد کی ہے اور امید ہے دیگر صوبے بھی ایسے اقدامات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر پاکستان نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور کامیابیاں حاصل کیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر طے کرنا ہوگا کہ دہشت گردی سے کس طرح نمٹنا ہے۔