Gas Leakage Web ad 1

عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال، قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل پہنچنے کا خدشہ

0

کاروبار: عالمی تیل مارکیٹ شدید بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہے اور قیمتوں کے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے، جبکہ ایشیا میں فیول کی قلت کے باعث پاکستان اور تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔

تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، معاشی ترقی کی پیش گوئیوں میں کمی اور ایشیائی ممالک میں ایندھن کی کمی کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔

بلوم برگ کے مطابق دنیا نے اب تک اس صورتحال کی شدت کو پوری طرح نہیں سمجھا، جبکہ امریکی حکام اور وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ کر 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔

متعدد ماہرین نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک بڑے عالمی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ ایشیا میں فیول کی کمی مغربی ممالک تک پھیلنے کا خدشہ ہے، جبکہ یورپ کو آئندہ ہفتوں میں ڈیزل کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل سپلائی میں تقریباً 11.1 ملین بیرل یومیہ کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں کے ذریعے 10.9 ملین بیرل یومیہ کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

جنوری اور فروری 2026 میں عالمی تیل کی اوسط سپلائی 106.9 ملین بیرل یومیہ تھی، تاہم بندش کے باعث 18.4 ملین بیرل یومیہ کی کمی سامنے آئی ہے۔

سعودی عرب نے متبادل راستوں سے 7.3 ملین بیرل یومیہ تیل فراہم کیا، جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2 ملین بیرل یومیہ کے ذخائر جاری کیے اور دیگر اقدامات کے ذریعے 3.7 ملین بیرل یومیہ کا فرق پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔

ٹوٹل انرجیز کے چیف ایگزیکٹو پاتریک پویان نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران تین سے چار ماہ سے زیادہ جاری رہا تو یہ عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا، اور 20 فیصد عالمی خام تیل اور ایل این جی کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والا تقریباً 11 ملین بیرل یومیہ سپلائی خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مجموعی تیل کھپت سے بھی زیادہ ہے، جبکہ ایشیا میں طلب میں کمی اس خلا کو جزوی طور پر پورا کر رہی ہے۔

کرپشن الزامات: اسرائیلی صدر نے نیتن یاہو کی معافی کی درخواست پر مزید وضاحت طلب کرلی

امریکا اور دیگر ممالک نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ریکارڈ سطح پر تیل کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے چند غیر ملکی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت بھی دی ہے، تاہم یہ اقدامات محدود اثرات رکھتے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پائپ لائنز کے ذریعے تیل کو متبادل راستوں سے منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، اور سعودی عرب نے اپنے 60 فیصد تیل کو خلیج سے یانبُو ایکسپورٹ ٹرمینلز تک منتقل کیا ہے۔

اس وقت تیل کی قیمتیں تقریباً 112 ڈالر فی بیرل ہیں، جو جنگ کے آغاز کے بعد 55 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، تاہم یہ 2008 کی ریکارڈ سطح 147.50 ڈالر فی بیرل سے کم ہیں۔

یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، اگرچہ یہ 2022 کے بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں، جبکہ ایشیا میں طلب میں تقریباً 2 ملین بیرل یومیہ کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر پیٹروکیمیکل شعبے میں، اور پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں کرکٹ شائقین کو ایندھن کی بچت کے لیے گھروں میں رہ کر میچ دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ یورپ میں آئندہ ہفتوں کے دوران ڈیزل کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.