ظلمت کو ضیاء صرصر کو صباء
بندے کو خدا کیا لکھنا!!!
تحریر:نوشابہ یعقوب راجہ
میری نظر میں ایک رہنما اور صحافی کی چند صفات ہیں!!
نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز.
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
اللہ کو ماننے والا ہو،متقی ہو، دیندار ہو،صادق اور امین ،خودار اور غیرت مند ہو،دینی اور دنیاوی تعلیم کا حامل ہو،اسلام پسند اور عادل ہو،
دلیر ہو،لیڈرشپ کوالٹی ہو،مشکلات سے مقابلہ کرنا جانتا ہو،معاملہ فہم ہو،قوم اور انسانیت کا خیرخواہ ہو،خدمت خلق میں پیش پیش ہو،ملک کی پہچان کا سبب بنے، دین اور ملک کا بہترین سفیر ہو،ملکی خزانے کی ایک ایک پائی کو قوم کی امانت سمجھے، خوراک،تعلیم اور صحت کو عوام کی بنیادی ضروریات سمجھے،منصف ہو اور انصاف پسند ہو،اسے ترجیحات کا تعین کرنا آتا ہو
امن اور انصاف کے حصول اور ترویج کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانا جانتا ہو،اس کے عہد میں چھلے سے لیکر ایک بوڑھی عورت کی عزت محفوظ ہو۔اس کے عہد میں سب کو یکساں انصاف ،تعلیم،اچھی خوراک اور چادر چار دیواری کا تحفظ حاصل ہو۔اس کے عہد میں رعایا کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ حکمران وقت سے اور اس کی کابینہ کا محاسبہ کر سکے اس سے قومی خزانے کی بابت سوال کر سکے۔عوام کو ذہنی اور شخصی آزادی حاصل ہو۔
کم از کم ان چند خصوصیات کا حامل ہونا چاہیئے۔
اب اسطرح کی صفت مجھے کسی حکمران کی زندگی میں نظر آئے گی تو لامحالہ میں اس کام کی صفت ضرور کروں گی۔اور جو حکمران ان اصولوں کے خلاف چلے گا میرا قلم اس پر تنقید کرے ۔۔
یہ چند اسلامی اور اخلاقی صفات ہیں جو اسلامی اور مہذب معاشرے کے لیے ضروری ہیں ۔۔۔
تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قَلَم
بول! سر ظُلم کا ، تُو کاٹے گا یا میں کاٹُوں
آج کے دور میں صحافت کا مقدس شعبہ زبوں حالی کا شکار اس لیے ہے کہ صحافت کا محور عوام کے مسائل سے ہٹ کر ذاتی پسند ناپسند کی بھینٹ چڑھ چکا ہے!!
میرا قلم محض فلاں ابن یا بنت فلاں محض ناموں اور خاندانوں کی صفات نہیں بیان کر سکتا۔پراگرس اگر غیر تسلی بخش ہے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔انصاف کا ستیا ناس ہے ہر طرف بے یقینی کی فضا ہے اور ملک کا نوجوان ملک چھوڑ چھوڑ کر جا رہا ہے ۔مایوسی عروج پر ہے تو ایسی حالت میں قصیدے لکھیں ؟؟؟ہر گز نہیں ایک صحافی قصیدہ گو نہیں ہوتا ۔ملک میں یہ چیزیں حکومتیں ٹھیک کرتی ہیں اپوزیشن نہیں ۔
میری نظر میں ایک صحافی کو دین اور وطن سے بے لوث محبت کرنیوالا ہونا چاہیئے۔اسے ملکی مسائل سے پوری طرح باخبر ہونا چاہیئے۔اسے انٹرنیشنل ترقی یافتہ ممالک کی خبروں اور پالیسیوں سے باخبر ہونا چاہیئے کہ وہ اقوام کسطرح ترقی یافتہ ہیں اور کیسے وہ عوام الناس کے معیار پر پورا اترتی ہیں ۔کیسے وہ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر ان کی اصلاح کرواتے ہیں۔
ایک صحافی کی ذاتی پسند کچھ بھی ہو اسے عوام الناس کا نمائندہ اور ہمدرد ہونا چاہیئے اسے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حق سچ کا علمبردار ہونا چاہیئے۔اسے انصاف پسند اور عادل ہونا چاہیئے اس کی بحیثیت انسان وابستگی جس بھی جماعت سے ہو مگر اس کی پہلی ترجیح عوام کی فلاح و بہبود ہونی چاہیئے۔وہ قوم کہ آنکھ ،ناک اور کان ہوتا ہے ۔۔ایک صحافی کسی بھی لیڈر کی پالیسیوں پر اس کے کاموں پر تنقید یا تعریف کر سکتا ہے ۔۔
جب کوئی جماعت حکمران ہوتو صحافت کا تقاضا ہے کہ عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ۔حکومت کی اصلاح کرنا اس کے غلط فیصلوں یا اس کی سست پالیسیوں اور کرپشن پر تنقید کرنا اور ان کی اصلاح کروانا ۔میں کی مدح سرائی کے سراسر خلاف ہوں ۔
صحافت کی اصطلاح میں صحافی کو معاشرے کا واچ ڈاگ کہا جاتا ہے مگر معذرت کیساتھ اسے واچ ڈاگ ہی رہنا پالتو نہیں بننا چاہیئے۔
اور ایک صحافی کے شایان شان نہیں ہے وہ کسی بھی مخالف جماعت کی یا حکمران یا کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی کو چھیڑے۔قلم ہر گز کسی کی ذاتی زندگی کیساتھ کھیلنے کا پرمٹ نہیں ہے۔
ایک صحافی کو وسیع النظر ہونا چاہیئے، عادل اور منصف ہونا چاہیئے۔
میں نے قلم قلمی جہاد کے لیے تھاما تھا اور میرا پہلا کالم 1999 میں خبریں اخبار میں شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا "کشمیر جنت نظیر سے تکمیل پاکستان تک”اور حسن اتفاق ہے کہ نواز شریف کے دور میں واجپائی کی آمد پر لکھا تھا ۔۔جو مینار پاکستان میں گٹھیا تقریب ساری رات منائی گئی تھی اس کے خلاف لکھا تھا ۔۔دوسرا کالم نواز شریف کے کارگل سے آرمی واپس بلانے پر لکھا تھا جب جواز دیا گیا تھا کہ صلح حدیبیہ بھی ہوا تھا ۔میرے کالم کا عنوان تھا
تاریخ کے پلٹیے اوراق کہ دنیا کو ہو جائے یقین
اس قوم کے تم فرد ہو جو قوم مٹ سکتی نہیں
تو اس کالم میں میں نے قبل از اسلام سے لیکر مکہ کی تیرہ سالہ زندگی 10 سالہ مدنی زندگی اور پھر واقعہ کربلا سے کارگل ایشو تک تفصیلی روشنی ڈالی تھی ۔اس زمانے میں حکمران وقت کے خلاف لکھنے کا رواج کم تھا جب حق بات کرنی تو ڈرنا کیسا؟؟؟
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
میرا قلم پہلے دن سے حق کی حمایت کرتا آیا اور ظلم کے خلاف لکھتا آیا ہے ۔
اس لیے میں حمایت صرف حق ہی کی کرتی ہوں ۔
اسلام اور پاکستان میرے ایمان کا حصہ ہے اس کی عزت اور وقار میں اضافہ کرنے والوں کی حمایت میرا قلم ہمیشہ کرتا رہے گا۔
میرے قلم کے تعارف کے لیے اتنا کافی ہے کہ میں اسلام اور پاکستان کا ادنی سا نظریاتی مجاہد ہوں جو اس کی حدود سے ٹکرائے گا وہ میرے قلم کے عتاب کا نشانہ بنے گا جو ان کی عزت کرے گا اسے میرا قلم عزت کا تاج پہنائے گا ۔میرے ایمان کا تقاضہ ہے کہ میں اپنے قلم کی سیاہی کے تقدس کا احترام کروں جس دن اس قلم میں اپنے خون کو بھرنا پڑا پوری عزت اور شان سے اپنی جان کا نذرانہ حاضر ہوگا۔
مگر باطل کی حمایت نہیں ۔ہر گز نہیں !!!
جب ایک قلم بکتا ہے یا بے توقیر ہوتا ہے یا اپنا حق رائے دہی کا صحیح استعمال نہیں کرتا تو وہ قوموں کی عزت اور ان کے روشن مستقبل کو تاریک کرتا ہے جو گناہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی کیونکہ ہر فرعون اپنے وقت مقررہ پر غرق ہو جاتا ہے مگر تاریخ زندہ رہتی ہے ۔اور پھر ساری زندگی ایسے کرداروں پر لعنتیں ہی برستی ہیں اس لیے اگر مستقبل میں صدقہ جاریہ بننا ہواور آخرت میں سرخرو ہونا ہو تو قل کی تقدیس پر کبھی سودا نہ کریں۔
میں نے صحافت کے آغاز سے قبل ایک حدیث مبارکہ پڑھی تھی میرا آج بھی اس پر پورا ایمان ہے۔
میرے نبی مہربان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا!!
"قیامت کے دن شہداء میں سب سے افضل رتبہ اس شخص کا ہے جو حکمران وقت کو نصیحت کرے اور وہ اسے مروا دے”
انسان دنیا میں ہر شے کے حصول کے لیے بھاگتا ہے مگر موت اور رزق انسان کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔۔اس لیے ایک مسلمان کے شایان شان نہیں کہ وہ موت کے ڈر سے حق کو بیان کرنے سے باز رہے۔
سو موت کا وقت مقرر ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی کوئی بات نہیں!!