وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو قرض نہیں بلکہ مہارت اور سرمایہ کاری چاہیے۔ زراعت، آئی ٹی، اکنامک زونز اور مائنز اینڈ منرلز میں چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔
چینی صوبے ہینگ ژو میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ترقی کےسفرمیں پاکستان جلد چین کا ہمقدم ہوگا، چین کے ساتھ اربوں ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں ان میں سے 30 فیصد ایم او یوز کو معاہدوں میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ 5 سے 7 سال میں چین کے ساتھ زرعی تجارت 10 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ارادہ ہے۔ کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر ورلڈ کلاس اسپیشل اکنامک زون بنا رہے ہیں۔ ون ونڈو آپریشن اورریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ ملےگا۔
شہبازشریف نے کہا کہ چین سالانہ 100 ارب ڈالر کی زرعی اشیا درآمد کرتا ہےاور پاکستان چین کی ضروریات کے مطابق معیاری زرعی مصنوعات فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم شہبازشریف نے علی بابا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، ایگزیکٹو چیئرمین جوسائی نے وزیراعظم شہبازشریف کا استقبال کیا۔ جوسائی نے کہا کہ وزیراعظم کوعلی بابا ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کرنے پر خوش آمدیدکہتے ہیں، ایران،امریکا جنگ بندی کےحوالےسے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔
ایگزیکٹو چیئرمین علی بابا نے کہا کہ خطے میں امن کی کوششوں کیلئے پاکستان کا کلیدی کردار ہے، صحت عامہ کےشعبے میں وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں بہترین کام ہورہاہے، انسانی وسائل پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔