31 مئی کو آسمان پر نایاب”بلو مون”دکھائی دے گا
آسمان پر رواں ماہ ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا جب مئی کے دوران دوسرا مکمل چاند طلوع ہوگا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق 31 مئی کو نظر آنے والے اس مکمل چاند کو “بلو مون” کہا جاتا ہے، جو نسبتاً کم ہونے والا فلکیاتی واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مئی 2026 کا پہلا مکمل چاند یکم مئی کو نمودار ہوا تھا، جبکہ دوسرا مکمل چاند 31 مئی کو دکھائی دے گا۔ چونکہ ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند ظاہر ہو رہا ہے، اس لیے دوسرے چاند کو “بلو مون” کا نام دیا جاتا ہے۔
فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر سال میں 12 مکمل چاند دیکھے جاتے ہیں، تاہم قمری گردش اور گریگورین کیلنڈر کے دنوں میں فرق کے باعث بعض برسوں میں ایک اضافی مکمل چاند بھی سامنے آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2026 میں مجموعی طور پر 13 مکمل چاند دیکھنے کو ملیں گے۔
ماہرین کے مطابق چاند زمین کے گرد تقریباً 29.5 دن میں اپنا چکر مکمل کرتا ہے، جبکہ کیلنڈر کے مہینوں کا دورانیہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے بعض اوقات ایک ہی مہینے کے اندر دو مکمل چاند دکھائی دیتے ہیں۔مئی کے پہلے مکمل چاند کو “فلاور مون” کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران بہار اپنے عروج پر ہوتی ہے اور کئی علاقوں میں پھول کھل رہے ہوتے ہیں۔ دو مکمل چاند کے درمیان تقریباً ساڑھے انتیس دن کا وقفہ ہونے کے باعث مئی کے اختتام پر ایک اور مکمل چاند طلوع ہوگا، جسے باضابطہ طور پر “بلو مون” قرار دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق 31 مئی کو یہ چاند مشرقی افق سے طلوع ہوگا اور آسمان میں نسبتاً نیچی سطح پر دکھائی دے گا۔ یہ منظر سنبلہ یعنی وِرگو کے ستاروں کے قریب دیکھا جا سکے گا، جس کے باعث فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ خاص کشش کا باعث بن سکتا ہے۔فلکیاتی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر موسم صاف ہو تو کھلی جگہ سے اس نایاب منظر کا مشاہدہ کیا جائے تاکہ “بلو مون” کی خوبصورتی کو بہتر انداز میں دیکھا جا سکے۔